مفتی صاحب!میں نے اپنی بیٹی کا نام رفقاء رکھا ہے،جو حضرت اسحاق علیه السلام کی زوجہ کا نام ہے،براہ مہربانی مجھے بتائیں کہ رفقا واقعی حضرت اسحاق علیه السلام کی زوجہ کا نام تھا؟اور کیا یہ نام رکھنا ٹھیک ہے۔
جی ہاں!بعض کتب میں حضرت اسحاق علیه السلام کی زوجہ محترمہ کانام"رفقا"ثابت ہے،اس لئے کسی بچی کا"رفقا"نام رکھناجائزاوردرست ہے،مگرزیادہ بہتریہ ہےکہ حمیرا،عائشہ،فاطمہ،زینب،میمونہ،حفصہ،عاتکہ،جویریہ،امیمہ
خنساء،اورمریم جیسے ناموں میں سے کوئی نام تجویز کیا جائے۔
کمافی الشامیہ:التسمية باسم لم يذكره الله تعالى في عبادة ولا ذكره رسوله - صلى الله عليه وسلم - ولا يستعمله المسلمون تكلموا فيه، والأولى أن لا يفعل (إلی قوله) «وكان رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يغير الاسم القبيح إلى الحسن جاءه رجل يسمى أصرم فسماه زرعة اھ (6/417،418)
وفی البدایہ والنھایہ:وذکر اھل الکتاب ان اسحاق لما تزوج رفقا بنت بتوابیل فی حیاۃ ابیہ کان عمرہ اربعین سنہ وانھا کانت عاقراً،فدعااللہ لھا فحملت فولدت غلامین توامین اھ (1/277)۔واللہ اعلم