نام رکھنے کا حکم

بچی کا نام ’’منیٰ‘‘ رکھنے کا حکم

فتوی نمبر :
10265
| تاریخ :
2020-10-26
معاشرت زندگی / بچوں کے اسلامی نام / نام رکھنے کا حکم

بچی کا نام ’’منیٰ‘‘ رکھنے کا حکم

کیا میں اپنی بیٹی کا نام ’’منیٰ‘‘ رکھ سکتاہوں؟ منیٰ سعودی عرب میں ایک مقدس مقام کا نام ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اگرچہ کسی بچی کا نام ’’منی‘‘ رکھنے کی بھی گنجائش ہے، مگر زیادہ بہتر یہ ہے کہ ازواجِ مطہرات، صحابیات اور دیگر نیکو کار خواتین کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے۔ مثلاً عائشہ، فاطمہ، کلثوم، مریم، جویریہ، عاتکہ، خنساء، حمیرا، حفصہ، زینب، صفیہ، میمونہ، امیمہ، اور ماریہ وغیرہ۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی سنن أبي داود: عن أبي وَهْب الجُشَمِىّ -وكانت له صحبة- قال: قال رسولُ الله -صلى الله عليه وسلم-: "تَسَمَّوْا بأسَماءِ الأنبياء، وأحَبُّ الأسماءِ إلى الله: عَبدُ الله وعبدُ الرحمن، وأصدَقُها: حارِثٌ وهَمَّامٌ، وأقْبَحُها: حَرْبٌ ومُرَّة" اھ(7/ 305)
وفي مشکاة المصابیح: وعن أبي الدرداء قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «تدعون يوم القيامة بأسمائكم وأسماء آبائكم فأحسنوا أسمائكم» رواه أحمد وأبو داود اھ (ص:۴۰۸) واللہ اعلم بالصواب!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شیراز علی نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 10265کی تصدیق کریں
0     1114
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات