السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں ہمارے اکابرین اور سلفِ صالحین یزید بن امیر معاویہ۔رضی اللہ عنہ۔ کے بارے میں کہ:
کیا وہ مسلمان تھا ؟ یا اور کچھ(جیسےمنافق،مرتد،کافر) اور ایک بڑا اہم سوال کہ کربلا کے واقعہ میں ہمارے بہت سے صحابہ کرام۔رضی اللہ عنہم۔ حضرت عبد اللہ بن عباس،حضرت عبد اللہ بن عمر، حضرت انس بن مالک،حضرت زید بن ارقم۔رضی اللہ عنہم ۔ جیسے عظیم المرتبت صحابہ خاموش کیوں رہے اور انہوں نے تلواریں کیوں نہیں اٹھائیں ؟اور حضرت حسین۔رضی اللہ عنہ۔ کا دفاع کیوں نہیں کیا، کیا یزید کی فوج کے پاس طاقت زیادہ تھی؟یا سب صحابہ۔رضی اللہ عنہم۔ اس کے قبضے میں تھے؟ اور کیا وجہ تھی ؟
علماءِ کرام سے گزارش ہے کہ تفصیلی جواب دیکر مشکل کو آسان فرمائیں،والسلام۔اسلام کا خادم۔
یزید کافر تو نہیں، البتہ فاسق و فاجر اور گناہ گار تھا، جبکہ صحابہ کرام کا اس وقت خاموش رہنا یزید کے مقابلے پر عدمِ قدرت اور بعض دوسرے معروضی حالات اور اس وقت باہم اختلاف کی کیفیت کی بناء پر تھا۔
کمافی معارف السنن: ویزید لاریب فی کونہ فاسقاً ولعلماء السلف فی یزید وقتلہ الامام الحسین خلافاً فی اللعن والتوقف قال ابن الصلاح فی یزید ثلاث فرق فرقۃ تحبہ وفرقۃ تسبہ وفرقۃ متوسطۃ لاتتولاہ ولاتلعنہ قال وھذہ الفرقۃ ھی المصیبۃ اھ(6/8)۔
وفی البدایۃ والنھایۃ: لمَّا تَوَاتَرَتِ الْكُتُبُ إِلَى الْحُسَيْنِ مِنْ جِهَةِ أَهْلِ الْعِرَاقِ وَتَكَرَّرَتِ الرُّسُلُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَهُ، وَجَاءَهُ كِتَابُ مُسْلِمِ بْنِ عَقِيلٍ بِالْقُدُومِ عَلَيْهِ بِأَهْلِهِ، ثُمَّ وَقَعَ فِي غُبُونِ ذَلِكَ مَا وَقَعَ من قتل مسلم بن عقيل، والحسين لا يعلم بشئ مِنْ ذَلِكَ، بَلْ قَدْ عَزَمَ عَلَى الْمَسِيرِ إِلَيْهِمْ وَالْقُدُومِ عَلَيْهِمْ، فَاتَّفَقَ خُرُوجُهُ مِنْ مَكَّةَ أيام التروية قبل مقتل مسلم بِيَوْمٍ وَاحِدٍ - فَإِنَّ مُسْلِمًا قُتِلَ يَوْمَ عَرَفَةَ - ولما استشعر الناس خروجہ أَشْفَقُوا عَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ، وَحَذَّرُوهُ مِنْهُ، وَأَشَارَ عَلَيْهِ ذَوُو الرَّأْيِ مِنْهُمْ وَالْمَحَبَّةِ لَهُ بِعَدَمِ الْخُرُوجِ إِلَى الْعِرَاقِ، وَأَمَرُوهُ بِالْمُقَامِ بِمَكَّةَ، وَذَكَّرُوهُ مَا جَرَى لِأَبِيهِ وَأَخِيهِ مَعَهُمْ.اھ(8/172)۔
وفیہ ایضاً: وَقَالَ ابْنُ أَبِي الدُّنيا: حدَّثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ هانئ أبو عبد الرحمن النحوي، ثنا مهدي بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ. قَالَ: اسْتَيْقَظَ ابْنُ عبَّاس مِنْ نَوْمِهِ فَاسْتَرْجَعَ وَقَالَ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ وَاللَّهِ، فَقَالَ لَهُ أصحابه: لِمَ يابن عباس؟ فَقَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّم ومعه زجاجة من دم فقال: أتعلم ما صنعت أمتي من بعدي؟ قتلوا الْحُسَيْنَ وَهَذَا دَمُهُ وَدَمُ أَصْحَابِهِ أَرْفَعُهُمَا إِلَى الله ".فَكُتِبَ ذَلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي قَالَ فِيهِ، وَتِلْكَ السَّاعَةُ، فَمَا لَبِثُوا إِلَّا أَرْبَعَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا حَتَّى جَاءَهُمُ الْخَبَرُ بِالْمَدِينَةِ أنَّه قُتِلَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ وَتِلْكَ السَّاعَةِ.اھ(8/218)۔