کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ :
(۱) سورۃ الفاتحہ ، سورۃ التوبۃ اور سورۃ الاسراء کے دوسرے نام کیا ہیں؟
(۲) ایک آیت بتائیں جو تمام آیات کی سردار (سید الآیا ت) ہے؟
(۳) سورۃ البقرہ کی تین آیا ت جس کے بارے میں ہے کہ وہ گنج ہے یعنی اللہ کے عرش کے نیچے، وہ کون سی تین آیات ہیں؟
(۴) ایک قرآنی سورت کے نزول کے وقت میں اُس کے ساتھ اتنے فرشتے تھے کہ شرق و غرب کے اُفق اُس سے مملو تھا ، آیت کا نمبر اور سورت کا نام بتائیں؟
(۵) حج کے ارکان بتائیں اور یہ بھی کہ رکن کا چھوڑنا اور حج کے واجب کو چھوڑنے کا کیا حکم ہے؟
(۶) روزِ قیامت کے چھ نام لکھیں؟
(۷) آیت قرآنی آیت میں یہ عدر الرئین ہے (۲،۳،۴،۵،۶) آیت کا نمبر اور سورۂ کا نام بتائیں؟ شکریہ
(۱) کتبِ تفاسیر میں سورۂ فاتحہ کے فاتحۃ الکتاب ، فاتحۃ القرآن ، ام الکتاب ، ام القرآن، الکنز اور سورۃ الحمد جیسے بہت سے نام بیان کئے گئے ہیں جن کی تعداد بیس سے بھی متجاوز ہے ، چنانچہ ملاحظہ ہو تفسیر روح المعانی: ج۱ ، ص۳۵۔
اسی طرح سورۂ توبہ کے بھی متعدد نام بیان کئے گئے ہیں جن میں سے الفاضحۃ ، البحوث ، المبعثرہ و البعثرۃ وغیرہ ہیں ، نیز سورۂ اسراء کے تین نام بیان کئے جاتے ہیں ، الاسراء، بنی اسرائیل، سبحان۔ (تفسیر قرطبی: ج۸، ص۶۱۔ روح المعانی: ج۱۰، ص۲)۔
(۲) آیت الکرسی تمام آیات کی سردار ہے جیسا کہ تفسیر مظہری میں ہے:واخرج الترمذی والحاکم من حدیث ابی ہریرۃ مرفوعًا سید آی القرآن اٰیۃ الکرسی۔ (ج۱، ص۳۶۱)
(۳) ان سے مراد سورۂ بقرہ کی وہ آخری آیت ہیں جو اٰمن الرسول سے آخر تک ہیں۔وروی أن النبی ﷺ قال أو تیت ہذہ الآیات من آخر سورۃ البقرۃ من کنز تحت العرش لم یؤتہن نبی قبلی۔ (تفسیر قرطبی: ج۳، ص۴۳۴)
(۴) حضراتِ مفسرین کرام نے سورۂ انعام کے بارے میں ایک قول بیان کیا ہے کہ اس سورت کے نزول کے وقت فرشتوں کی آمد اور نزول کی وجہ سے مشرق و مغرب کے کنارے بھر گئے تھے۔کما فی تفسیر روح المعانی لقد شیع ہذہ السورۃ من الملائکۃ ماسد الافق۔ (ج۴، ص۷۶)۔
(۵) حج کے تین ارکان ہیں: احرام، وقوفِ عرفہ ،طوافِ زیارت، ان میں سے کسی بھی رکن کے چھوڑنے سے حج نہیں ہوتا اور ترکِ واجب سے دم لازم آتا ہے۔
(۶) قیامت کے چھ نام یہ ہیں : الساعۃ ، الحاقۃ ، القارعۃ ، یومٌ عظیم ، الصاخۃ ، الطامۃ الکبریٰ۔
(۷) اس کی مکمل وضاحت لکھ کر اس کا جواب دوبارہ معلوم کرلیا جائے۔
نوٹ: جاننا چاہئے کہ دار الافتاء سے مسائلِ شرعیہ کا جواب اور وہ بھی ایک وقت میں فقط تین کا جاری کیا جاتا ہے اس قسم کے امتحانی پرچوں کے سوالات سے احتراز کرنا چاہئے آئندہ اس قسم کے سوالات کا قطعاً جواب جاری نہیں کیا جائے گا۔ ………………… فقط واﷲ اعلم!