السلام علیکم!
حضرت جی ہم جب یہ کہتے ہیں کہ ہم تمام فرشتوں پر ایمان لاتے تو میرا ذہن میں ایک عجیب سوال آیا کہ شیطان بھی تو ایک فرشتہ تھا کبھی ہم جن فرشتوں پر ایمان لے آتے ہیں ان میں شیطان بھی تو شامل نہیں ہوجاتا؟ میرا ذہن بہت عجیب کشمکش کا شکار ہوگیا میری رہنمائ کریں کیا مسلمان کو یوں کہنچا چاہیے کہ میں شیطان کے علاوہ تمام فرشتوں پر ایمان لاتاہوں؟ جزاک اللہ۔
واضح ہوکہ فرشتوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم مسلمان یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ فرشتے اللہ کی ایک نورانی مخلوق ہے، فرشتے اللہ کے معزز بندے ہیں جو دن رات اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں، ان کو اللہ کی طرف سے جس کام کا حکم ملتاہے وہ کر گزرتے ہیں، اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے، جبکہ شیطان جنات میں سے ہے فرشتوں میں سے نہیں، اس لیے ہم جب یہ کہتے ہیں کہ تمام فرشتوں پر ایمان لے آئے اس میں شیطان شامل نہیں ہوتا، اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، اور نہ ہی ’’ فرشتوں پر ایمان لاتا ہوں ‘‘ کہنے کے ساتھ شیطان کو نکالنا ضروری ہے،اگرچہ شیطان کے وجود کو تسلیم کرنا بھی ایمان کا حصہ ہے۔
في مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: (وملائكته) : جمع ملاك، وأصله مألك (ٳلی قوله) والمعنى نعتقد بوجودهم تفصيلا فيما علم اسمه منهم ضرورة كجبريل، وميكائيل، وإسرافيل، وعزرائيل، وإجمالا في غيرهم، وأنهم عباد مكرمون يسبحون الليل، والنهار لا يفترون، ولا يعصون الله ما أمرهم، ويفعلون ما يؤمرون اھ (۱/۱۱۹)۔
وفي شرح العقائد النسفية: فٳن قیل: ٲلیس قد کفر ٳبلیس وکان من الملائكة بدلیل صحة استثنائه منهم؟ قلنا: لا، بل کان من الجن ففقسق عن ٲمر ربه، لکنه لما کان في صفة الملائكة في باب العبادۃ ورفعة الدرجة وکان جنیا واحدا مغمورا فیما بینهم صح استثنائه منهم تغلیبا اھ (ص: ۱۴۲،۱۴۳) ـــــــ واللہ أعلم بالصواب!