عرض یہ ہے کہ ائمۂ اربعہ میں سے کسی کا قول اگر کسی صحیح حدیث سے ٹکرا رہا ہو تو ہمارے لۓ حدیث حجت ہے یا قولِ امام؟ براہِ مہربانی صحیح اور شرعی مؤقف کی طرف رہنمائی فرمائیں ۔
اگر مسئلہ اجتہادی ہو تو اس میں چونکہ ائمۂ مجتہدین رحمہم اللہ کی آراء مختلف ہو نے کی بناء پر قرآن و سنت کے دلائل کا بھی اختلاف ہوتا ہے اور ہر مجتہد کے پاس اپنی رائے پر دلیلِ شرعی (قرآن /حدیث /اجماع )موجود ہوتی ہے، اس لۓ کسی عامی اور غیر مجتہد کو اگر اپنے امام کی دلیل معلوم نہ ہو اور دوسرے مخالف مذہب کی دلیل اس کے سامنے آجائے تو اس کے لۓ حکم یہ ہے کہ اپنے امام کی رائے کو ملحوظ رکھ کر اس پر عمل کرتا رہے، کیونکہ وہ بھی در حقیقت قرآن و حدیث پر مبنی ہوتی ہےاور محض دوسرے مذہب کی دلیل دیکھ کر اس کے مطابق عمل کرنا شروع نہ کرے ، کیونکہ بغیر علم کے ایسا کرنے کی صورت میں اس کے بھٹکنے کا قوی اندیشہ ہے، چنانچہ فقہاءِ کرام رحمہم اللہ کا یہ متفقہ اصول ہے کہ عام آدمی جو نصوص میں غور و فکر کی اہلیت نہ رکھتا ہو اور صحیح و ضعیف ،محکم و منسوخ کے درمیان امتیاز نہ کر سکتاہو ، اس کے لۓ اپنے امام کا مفتیٰ بہ قول حجت ہے ، اسی پر عمل کرے ، اگر چہ اجتہاد کرنے والوں کیلۓ بنیادی طورپر دلائلِ شرعیہ چار ہیں : قرآن ،سنت ، اجماعِ امت اور قیاسِ صحیح۔
فی شرح عقود رسم المفتی : فقد صح عن ابی حنیفة انه قال اذا صح الحدیث فھو مذھبی و قد حکی ذالک الامام ابن عبد البر عن ابی حنیفة و غیرہ من الائمة انتھی و نقله ایضاً الامام الشعرانی عن الأئمة الاربعة (قلت) و لایخفیٰ ان ذلك لمن کان اھلا للنظر فی النصوص و معرفة محکمھا من منسوخھا فاذا نظر اھل المذھب فی الدلیل و عملوا به صح نسبته الی المذھب لکونه صادراً باذن صاحب المذھب اذ لاشك انه لو علم دلیله رجع عنه و اتبع الدلیل الاقویٰ اھ(ص24)۔