مفتی صاحب !میں کیسے عذاب اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان میں فرق کروں؟ کیونکہ میری زندگی بہت سی پریشانیوں اور مصیبتوں میں گزر رہی ہے ،جبکہ میں اور میری بیوی حقوق اللہ اور حقوق العباد کو حتی الامکان پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
عموماًجو پریشانی اور گناہ والی زندگی میں ہوتی ہے۔اور اس کی وجہ سے قلبی طور پر تکلیف ہوتی ہے ،وہ عذاب اور جو پریشانی نیکی اور دینداری والی زندگی کے باوجود آتی ہے اور اس کے دوران قلبی طور پر ناشکری کے جذبات اور قلبی تکلیف نہیں ہوتی، وہ امتحان او ررفع درجات کی صورت ہوتی ہے ۔
فی مشكاة المصابيح: وعن صهيب قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عجبا لأمر المؤمن كله خير وليس ذلك لأحد إلا للمؤمن إن أصابته سراء شكر فكان خيرا له وإن أصابته ضراء صبر فكان خيرا له " رواه مسلم- (3 / 148)
و فی أیضاً: وعن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : " من سعادة ابن آدم رضاه بما قضى الله له ومن شقاوة ابن آدم تركه استخارة الله ومن شقاوة ابن آدم سخطه بما قضى الله له " . رواه أحمد والترمذي (3 / 150) ۔ واللہ أعلم بالصواب!