ناپاکی کے لیے یقین اور غالب گمان کا حکم ہے، یقین کے لیے تو ضروری ہے کہ آپ نا پاکی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں، یا کوئی نیک پرہیز گار بندہ نا پاکی کا بتائے، یا رنگ اور بو سے ناپاکی کا پتہ چلے، محترم مفتی صاحب! اب میرا سوال یہ ہے کہ پہلے تو یقین کے بارے میں اوپر بیان کردہ معیار درست ہے؟ دوسرا ظنِ غالب سے کیسے ناپاکی کا پتہ چلے گا ؟ یا ظن غالب سے کیا مراد ہے؟ وضاحت کے ساتھ جواب دیں۔جزاک اللہ خیر اً
یقین اس علم کو کہا جاتا ہے جس میں کسی قسم کا تردد نہ ہو ، جبکہ غالب گمان یہ ہے کہ دو چیزوں میں اس طرح شک ہوجائے کہ دل ان میں سے ایک طرف مائل ہو کر دوسرے کو چھوڑ دے ، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ امور سمیت کوئی بھی ایسا قرینہ اور ذریعہ جس سے کسی چیز کے پاک یا ناپاک ہونے کا یقین یا ظنِ غالب ہوجائے تو اس کے مطابق عمل کرنا شرعاً بھی جائز اور درست ہوگا۔
کما فی شرح قواعد الفقھیۃ: الیقین لغۃ: العلم الذی لا تردد معہ الخ ( الیقین لا یزول بالشک، المادۃ ۴ ط: دارالقلم)۔
و فی الرد المحتار تحت ( قولہ: ظناً قویاً ) أی غالباً ( الی قولہ ) واذا عقد القلب علی احدھما و ترک الآخر فھو اکبر الظن و غالب الرأی الخ ( باب التیمم ج۱ ص ۲۴۷ ط: سعید )۔