کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کبیرہ گناہ بغیر توبہ کے کبھی معاف نہیں ہوتے ، مذکورہ جملہ قاعدۂ کلیہ کے طور پر بیان کیا جاتا ہے جبکہ یہ حدیث ( من حمل جنازۃ أربعین خطوۃ کفرت عنہ أربعین کبیرۃ(طحطاوی علی مراقی الفلاح، ص:۳۳۱) بظاہر اس قاعدہ کے مدِّمقابل ہو رہی ہے۔
۱۔ اگر ان میں کوئی تطبیق ہے تو ان کی وضاحت کر دیں؟
۲۔ حدیث کا حکم بیان فرما دیں ضعیف، موضوع وغیرہ ہونے کے اعتبار سے؟
اوّلاً تو یہ جاننا چاہیے کہ صغائر و کبائر کی معافی اور عدمِ معافی کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، وہ کسی قاعدہ و قانون کے پابند نہیں، وہ چاہیں تو کبیرہ کو معاف فرما دیں ’’لایسئل عما یفعل و ھم یسئلون‘‘ اور ثانیاً یہ کہ صغیرہ اور کبیرہ کی کوئی منصوص تعریفات نہیں، بلکہ ہر گناہ اپنے مافوق کو دیکھ کر صغیرہ اور ماتحت کو دیکھتے ہوئے کبیرہ کہلاتا ہے، اس لیے بعض دفعہ ان دونوں کا ایک دوسرے پر اطلاق کر دیا جاتا ہے، چنانچہ فقہاء کی تصریح کے مطابق مذکورہ حدیث میں ’’أربعین کبیرۃ‘‘ سے صغائر مراد ہیں، لہٰذا مذکورہ قاعدہ اور اس حدیث میں کوئی تعارض نہیں ہے، نیز یہ حدیث فقہاء نے روایت بالمعنیٰ کے طور پر نقل فرمائی ہے اور جس روایت سے یہ معنیٰ لیا گیا ہے وہ محدیثین کے نزدیک سنداً ضعیف بھی ہے۔
ففی تفسير روح المعاني: ﴿وَ يَغْفِرُ ما دُونَ ذلِكَ﴾ عطف على خبر إن ( إلی قوله) أي يغفر ما دونه من المعاصي و إن عظمت و كانت كرمل عالج، ولم يتب عنها تفضلا من لدنه و إحسانا لِمَنْ يَشاءُ أن يغفر له ممن اتصف بما ذكر فقط(3/ 50)۔
و فی تفسير روح المعاني: و قال الواحدي: الصحيح أن الكبيرة ليس لها حد يعرفها العباد به، و إلا لاقتحم الناس الصغائر اه (3/ 18)۔
و فی المعجم الأوسط: أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ’’مَنْ حَمَلَ جَوَانِبَ السَّرِيرِ الْأَرْبَعَ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ كَبِيرَةً‘‘۔
لَا يُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ، وَ لَمْ يَرْوِهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " اه (6/ 99)۔
و فی مجمع الزوائد و منبع الفوائد: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ’’مَنْ حَمَلَ جَوَانِبَ السَّرِيرِ الْأَرْبَعَ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ كَبِيرَةً‘‘ ".رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَ فِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ، وَ هُوَ ضَعِيفٌ اه(3/ 26)۔
و فی حاشية ابن عابدين: تحت قوله (كفرت عنه أربعين كبيرة) ببناء كفرت للفاعل، و ضميره للجنازة على تقدير مضاف: أي حملها، و الكبيرة قد تطلق على الصغيرة لأن كل ذنب صغير بالنظر لما فوقه، كبير بالنسبة لما تحته اه(2/ 231)۔
و فی الفقه الإسلامي و أدلته للزحيلي: ذكره الزيلعي و الكاساني في البدائع. و ذكر ابن عباس عن واثلة: ’’من حمل بجوانب السرير الأربع، غفر له أربعون كبيرة‘‘ و هو ضعيف اه(2/ 1539)۔