اسلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ مجذوب کس کو کہتے ہیں؟ میں نے سنا ہے کہ مجذوب (جس کو ملنگ بھی کہتے ہیں) پر شریعت لاگو نہیں ہوتی، جیسا کہ نابالغ بچے پر نہیں ہو تی اور اگر مجذوب کوئی کفریہ لفظ کہے اور اس کو منع کیا جائے اور وہ رُک جائے، تو اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
جس مجذوب پر نماز لازم نہیں ہوتی، اس سے مراد وہ پاگل اور دیوانہ ہے، جسے دنیاوی امور سے کوئی غرض نہ ہو، اور نہ ہی وہ اچھے بُرے کی تمیز کرنے پر قادر ہو۔ اور اگر وہ اچھے بُرے کی تمیز کر سکتا ہو، مگر ایک تندرست آدمی کے مقابلے میں اس کی سمجھ ناقص ہو، اور اُسے مجذوب کہہ دیا جاتا ہو، تو ایسے شخص پر نماز اور دیگر عبادات لازم ہیں۔
ففي مشکاة المصابیح: وعن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: "رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ وعن الصبي حتى يبلغ وعن المعتوه حتى يعقل " اھ (ص:۲۸۴)۔
وفي الفتاوی الشامية: وفي أصول البستي أنه لا يكلف بأدائها كالصبي العاقل إلا أنه إن زال العته توجه عليه الخطاب بالأداء حالا، وبقضاء ما مضى بلا حرج، فقد صرح بأنه يقضي القليل دون الكثير وإن لم يكن مخاطبا فيما قبل كالنائم والمغمى عليه دون الصبي إذا بلغ، وهو أقرب إلى التحقيق اھ (۲/۲۵۸)۔
وفي رد المحتار: فإن الجنون فنون، ولذا فسره في البحر باختلال العقل وأدخل فيه العته والبرسام والإغماء والدهش. ويؤيده ما قلنا قول بعضهم: العاقل من يستقيم كلامه وأفعاله إلا نادرا، والمجنون ضده اه (3/ 244)