اسلام علیکم ۔ (١)میں آپ سے علمِ لدُنّی اور علمِ وہبی کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں ۔ ان دونوں علوم کے بارے میں اس سلسلے میں معلومات حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ یہ علم کن لوگوں کے پاس ہوتا ہیں ؟ (٢) تکبیرِ تشریق کی حیثیت (درجہ) اور حقیقت کیا ہے ؟تکبیرِ تشریق کی حیثیت (درجہ) اور حقیقت کیا ہے ؟ تکبیر تشریق کہنا سنت ہے یا واجب ہے؟ اور کن ایام میں ان کا کہنا ضروری ہے؟ اگر کسی بھی دن کسی بھی نماز کے بعد یہ تکبیرات کہے جائے تو کیا ہوگا؟ براہ کرم مدلل جواب ارسال فرمائے۔ اسلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔
(1) علم لدنی یا علم وہبی وہ علم ہے جوحصول علم کے ظاہری اسباب اختیار کئے بغیر اللہ تعالی محض اپنے فضل سے کسی کو عطا کردے،اور یہ علم اللہ تعالی اپنے خاص بندوں کو تقوی اور عمل صالح کی بدولت عطا کرتے ہیں ۔علم وہبی کے حصول میں تقوی، عمل صالح کے ساتھ علم کسبی کا بھی عموما دخل ہوتا ہے ،تاہم اس کا حصول انسان کے دائرہ اختیار میں نہیں۔
(2) جبکہ تکبیرات تشریق ذی الحجہ کی 9 تاریخ (یوم عرفہ) کی فجر کی نماز سے لے کر 13 ذی الحجہ کی عصر کی نماز تک ہر فرض نماز کے بعد ہر عاقل بالغ منفرد، امام، مقتدی، مرد اور عورت پر ایک مرتبہ بلند آواز سے پڑھنا علماء احناف کے نزدیک واجب ہے، تاہم عورتیں اپنی آواز اس قدر بلند نہ کریں کہ کسی نامحرم تک اس کی آواز پہنچ جائے۔
والعلم نور في قلب المؤمن مقتبس من مصابيح مشكاة النبوة من الأقوال المحمدية، والأفعال الأحمدية، والأحوال المحمودية يهتدى به إلى الله وصفاته وأفعاله وأحكامه، فإن حصل بواسطة البشر فهو كسبي، وإلا فهو العلم اللدني.( مرقاة المفاتيح،كتاب العلم،ج:1،ص:437)
العلم نوعان: كسبيٌّ ووهبيٌّ، أما الأول فيكون تحصيله بالاجتهاد والمثابرة والمذاكرة، وأما الثاني فطريقه تقوى الله والعمل الصالح كما قال تعالى {واتقوا الله وَيُعَلِّمُكُمُ الله} وهذا العلم يسمى العلم اللُّدُني {وآتيناه من لدنَّا علماً} وهو العلم النافع الذي يهبه الله لمن شاء من عباده المتقين.(صفوة التفاسير،سورة البقرة،ج:1،ص:162)
الدر المختار:
"ویجب تکبیر التشریق في الأصح للأمر به مرۃً، وإن زاد علیها یکون فضلاً " (باب العیدین، مطلب فی تکبیر التشریق)