تقویٰ اور فتویٰ کیا ہے؟ آیا ایک شخص فتاوی پر عمل کر کے تقویٰ حاصل کر سکتا ہے؟ نیز تقویٰ اور فتویٰ میں کیا فرق ہے؟اور یہ جو کہتے ہیں کہ ’’یہ فتویٰ ہے اور وہ تقویٰ ہے‘‘، اس کے کیا معنی ہیں؟براہ کرام راہنمائی فرمائیں۔
فتویٰ حکمِ شرعی اور تقویٰ اس پر عمل کا نام ہے اور ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے، جبکہ مذکور مقولہ کہ ’’یہ فتویٰ ہے اوریہ تقویٰ‘‘ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس صورت میں حکمِ شرعی کے اعتبار سے گنجائش اور رخصت کی صورت ہے، مگر عزیمت اور احتیاط کا تقاضہ یہ ہے کہ گنجائش ہونے کے باوجود اس سے بچا جائے، اور یہی تقویٰ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب!