جناب محترم! میرا سوال یہ ہے کہ ایک مخصوص گروہ کے چند لوگ حکیم الامت جناب مولانا اشرف علی تھانوی کا رسالہ ’’الامداد‘‘ کو لے کر بہت باتیں بناتے ہیں جس کا حوالہ یہ ہے کہ (ماہِ صفر 1336 ہجری، جلد 3 صفحہ 35) اس رسالہ میں ایک شخص نے مولانا اشرف تھانوی صاحب کے نام کا کلمہ اور درود شریف پڑھی ہے اور جواب میں مولانا اشرف علی تھانوی نے اطمینان کا اظہار بھی کیا ہے تو آپ اس واقعہ کا کوئی سدِ باب تجویز فرمادیں، مگر گزارش ہے کہ وہ الزامی نہیں، علمی جواب ہو، تاکہ میں اس کا جواب دے سکوں علمی طریقہ سے، کیوں کہ ایک عام آدمی جب یہ واقعہ پڑھتاہے تو اس کو کفر ہی جانتاہے۔
حضور اقدسﷺ خاتم الرسل ہیں، جو شخص آپ کے بعد کسی کو بھی رسول جانے، وہ کافر ہے، یہ تمام اہل سنت والجماعۃ، بلکہ تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے، پس جو شخص حالت بیداری واختیار میں قصداً کسی اور کے نام کا کلمہ پڑھے، وہ اسلام سے خارج ہے، خود حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، بلکہ تمام اکابر علماء دیوبند کا بھی یہی فتویٰ ہے، حضرت تھانویؒ نے کبھی کسی سے اپنے نام کا کلمہ یا درود شریف نہیں پڑھوایا اور وہ کیسے پڑھواتے، جب کہ وہ خود ہی اس کو کلمہ کفر قرار دے کر ایسے شخص کو کافر کہتے ہیں۔
جو شخص حضرت مولانا اشرف علی تھانوی کی طرف اس کلمہ کو منسوب کرکے ان کو کافر کہتاہے، وہ بہت بڑا بہتان باندھتاہے اور اس کی وجہ سے وہ خود ہی اس کی زد میں آجاتاہے، جبکہ جہاں تک سوال میں مذکور واقعہ کا تعلق ہے تو اس کا اصل قصہ یہ ہے کہ ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ کلہ طیبہ پڑھنا چاہتاہے، مگر اس کی زبان پر ’’لا اله الا اللہ اشرف علی رسول اللہ‘‘ جاری ہوتاہے، پھر جب بیدار ہوا تو اس کو بہت سخت پریشانی لاحق ہوئی اور اس خواب کے متعلق حضرت تھانویؒ کو یہ سارے حالات لکھ کر بھیج دئیے تو آپ نے خواب کی تعبیر کے طو پر جواب میں لکھا کہ تم جس کی طرف رجوع کرناچاہتے ہو، وہ متبع سنت ہے اور ہر عقلمند جانتاہے کہ خواب میں جو کچھ نظر آتاہے وہ غیر اختیاری ہونے کے علاوہ بیداری کے حالات کا حکم نہیں رکھتا اور پروپیگنڈا کرنے والے بھی جانتے ہیں، مگر ضد وعناد کا کوئی علاج نہیں، اس کی وجہ سے انسان کے دماغ پر پردے پڑ جاتے ہیں، واللہ الہادی الی الصراط المستقیم۔ واللہ أعلم بالصواب!