السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، مفتی صاحب! ایک عمرہ مکمل کرنے کے بعد والدین یا دیگر رشتہ داروں کی طرف سے نفلی عمرہ کرنے کے لیے بار بار حرم سے باہر صرف مسجد عائشہ ہی جانے سے متعلق لوگ باتیں کرتے ہیں کہ یہ ضعیف میقات ہے۔بعض کہتے ہیں کہ عمرہ نہیں ہوتا، اس کی کیا حقیقت ہے؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ ایک ہی احرام باربار استعمال کرنا جائز ہے یا اسکو ہر بار دھونے کی ضرورت ہے؟
واضح ہو کہ ایک سفر میں یکے بعد دیگرے کئی عمرے ادا کیے جاسکتے ہیں، مکہ مکرمہ میں موجود شخص کے لیے عمرہ کی میقات چونکہ حل ہے اور سب سے قریبی حل (میقات) مسجد عائشہ ہے، لہذا اگر دوسرا، تیسرا، چوتھا عمرہ کرنے کے لیے مسجد عائشہ سے احرام باندھا جائے تو شرعاً جائز اور درست ہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ بات کی کوئی حقیقت نہیں۔ جبکہ ایک ہی احرام میں کئی سارے عمرے ادا کیے جاسکتے ہیں، اس کے لیے ہر بار احرام کی چادر کو دھونا یا دوسری چادر استعمال کرنا شرعاً لازم نہیں، البتہ اگر احرام کی چادریں میلی ہوگئی ہوں تو دھولینا زیادہ بہتر ہے۔
ففي غنية الناسك: ماذا هو الافضل في احرام العمرة للمكي من الجعرانة او من مسجد عائشه؟
والافضل احرامها من التنعيم من معتمر عائشه رضي الله عنها، قيل هو المسجد الادنى من الحرم وقيل: انه مسجد الاقصى الذي على الأكمة، قيل: هو الاظهر (كبير) ثم من الجعرانة واختار الطحاوي رحمه الله عكسه كما هو مذهب مالك رحمه الله والشافعي رحمه الله. (ص: ١٠٠ مط: مكتبة معارف القران)
أفضل المواقيت للمكي في إحرام العمرة: وأفضل مواقيتها لمن بمكة التنعيم ثم الجعرانة وقد مر التفصيل في المواقيت. (ص: 323 مط: مكتبة معارف القران)