السلام علیکم! مفتی صاحب! میں اور میری بیوی عمرے پر جانا چاہتے ہیں، سوال یہ ہے کہ دوران عمرہ اگر حیض آجائے تو کیا کرنا چاہیے اور ہمارے سفر ۲۱ دن کا ہے۔
سائل کی بیوی کو اگر عمرے کا احرام باندھنے سے قبل حیض آجائے تو ایسی صورت میں اسے چاہیے کہ غسل یا وضو کرنے کے بعد عمرے کی نیت سے تلبیہ پڑھے، لیکن اس وقت جو دور کعت نماز پڑھی جاتی ہے، وہ نہ پڑھے ، چنانچہ ایسا کرنے سے وہ محرمہ بن جائے گی، اسی طرح احرام باندھنے کے بعد اگر اسے حیض آجائے تو پھر مکہ مکرمہ داخل ہونے کے بعد انتظار کرے، اور جب حیض سے پاک ہو جائے تو عمرہ کی ادائیگی کرے، لیکن اگر حیض سے پاک ہونے تک وہاں ٹھہرنے کی اجازت نہ ہو یا کوئی اور شرعی عذر ہو تو ایسی صورت میں حالت حیض میں ہی عمرہ کی ادائیگی کرے اور اس دوسری صورت میں سائل کی بیوی کے ذمہ دم دینا بھی لازم ہو گا۔
كما في صحيح البخاري؛ عن عائشة رضي الله عنها: أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليها، وحاضت بسرف، قبل أن تدخل مكة، وهي تبكي، فقال: «ما لك أنفست؟» قالت: نعم، قال: «إن هذا أمر كتبه الله على بنات آدم، فاقضي ما يقضي الحاج، غير أن لا تطوفي بالبيت» فلما كنا بمنى، أتيت بلحم بقر، فقلت: ما هذا؟ قالوا: ضحى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن أزواجه بالبقر اھ (7/ 99)
و في الهداية في شرح بداية المبتدي: " وإذا حاضت المرأة عند الإحرام اغتسلت وأحرمت وصنعت كما يصنعه الحاج غير أنها لا تطوف بالبيت حتى تطهر " لحديث عائشة رضي الله عنها حين حاضت بسرف اھ (1/ 156)