ترجمہ : السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ : اگر کوئی بندہ ہیئر ٹرانسپلاٹ کراتا ہے ،یعنی کہ بال لگواتا ہے ،اور وہ جب نوکری کے حوالے سے سعودی عرب جاتا ہے تو وہ عمرہ کرکے بال کیسے کٹائے گا؟ کیونکہ آپریشن کے بعد بال 8 مہینے تک نہیں کٹا سکتے ہیں اور اس جگہ پر بال نہیں آتے جہاں پر بال لگائے گئے ہوں، تو کیا صرف اس جگہ سے کٹا لیں جہاں ہمارے قدرتی بال ہوں ؟ یہ بات سمجھا دیں ! شکریہ ۔
واضح ہو کہ مرد کے حق میں حلق ( استرے سے بال صاف کرنا) افضل ہے ،اور قصر ( ایک پورے کے بقدر مکمل سر سے بال کاٹنا) جائز ہے ،لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کیلئے مذکور عذر کی وجہ سے اگر حلق کرانا ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل پر قصر کرانا لازم ہے ،جسکی صورت یہ ہے کہ تمام سر یا کم از کم ایک چوتھائی سر کے بالوں کو پوروں کی مقدار سے تھوڑا سا زیادہ کاٹا جائے ،تاکہ یقینی طور پر بالوں کا قصر ہوجائے ۔
کما فی الدر المختار: (ثم قصر) بأن يأخذ من كل شعره قدر الأنملة وجوبا وتقصير الكل مندوب والربع واجب ( الیٰ قولہ ) وحلقہ لکل افضل
وفی الشامیۃ: قولہ ثم قصر: أي أو حلق كما دل عليه قوله وحلقه أفضل وقوله بأن يأخذ (الیٰ قولہ) قال في البحر: والمراد بالتقصير أن يأخذ الرجل والمرأة من رؤوس شعر ربع الرأس مقدار الأنملة كذا ذكره الزيلعي، ومراده أن يأخذ من كل شعرة مقدار الأنملة كما صرح به في المحيط، وفي البدائع قالوا: يجب أن يزيد في التقصير على قدر الأنملة حتى يستوفي قدر الأنملة من كل شعرة برأسه لأن أطراف الشعر غير متساوية عادة، قال الحلبي في مناسكه وهو حسن،(قوله وحلقه أفضل)
أي هو مسنون وهذا في حق الرجل،وأشار إلى أنه لو اقتصر على حلق الربع جاز كما في التقصير، لكن مع الكراهة لتركه السنة فإن السنة حلق جميع الرأس أو تقصير جميعه اھ ( 2/515) ۔