السلام علیکم ! میں اپنے کام کے سلسلے میں جدّہ میں منتقل ہوں ۔ مہینہ میں ایک ٹائم یادو ٹائم یا کبھی دوسرا تیسرا مہینہ ریاض ، یادمام جانا ہوتا ہے دو تین دن کے لیے ، دل کرتا ہے کہ طواف کر لیا جائے ، پھر مکہ مکرمہ طواف کے لیے چلا جاتا ہوں اور کبھی عمرہ بھی کر لیتا ہوں ، یہ ضروری نہیں کہ سفر سے یعنی ریاض یا دمام سے واپس آکر میں دوسرے دن ہی طواف کے لیے گیا ہو ،یا عمرہ کیا ہو، طواف کے لیے گیا ہوں ، مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ واپس آکر کیا عمرہ کرنا ضروری ہے پہلے یا صرف طواف ہی کرسکتا ہوں ؟
دمام اور ریاض کے سفر سے واپسی کے بعد نہ عمرہ ادا کرنا ضروری ہے، اور نہ ہی طواف کرنا ، البتہ مکہ مکرمہ جانا ہو تو میقات سے احرام باندھ کر عمرہ کرنا ضروری ہوگا ۔
کما فی غنية الناسك : على مسلم مكلف، أو حرمی كذالك أراد الحج أو العمرة ، وجاوز وقته غيرمحرم ، ثم أحرم أولا ، فعليه الاثم والعود الى وقته اھ (63)۔
و فی الدر المختار :(وحرم تأخير الإحرام عنها) كلها (لمن) أي لآفاقي (قصد دخول مكة) يعني الحرم (ولو لحاجة) غير الحج أما لو قصد موضعا من الحل كخليص وجدة حل له مجاوزته بلا إحرام فإذا حل به التحق بأهله فله دخول مكة بلا إحرام وهو الحيلة لمريد ذلك إلا لمأمور بالحج للمخالفة(لا) يحرم (التقديم) للإحرام (عليها) بل هو الأفضل اھ (2/478)۔