السلام علیکم ! میں اپنے شوہر کی دوسری بیوی ہوں ، پہلی بیوی سے انکی تین بیٹیاں ہیں ،جنکی میرے شوہر اللہ کی مدد سے شادی کرواچکے ہیں ،پہلی بیوی کو اپنا گھر خرید کے بھی دے چکے ہیں ،تین عمرہ اور ایک حج کی ادائیگی بھی ماشاءاللہ پہلی بیوی کے ساتھ کر چکے ہیں ،جبکہ میرے بیٹے کا شناختی کارڈ تک اپنے نام سے نہیں بنوایا، میں کرایہ کے گھر میں رہتی ہوں ،جسکا کرایہ شوہر ادا کرتے ہیں ، میرے گھر کا بھی تمام خرچ میرے شوہر ہی اٹھاتے ہیں ، مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر نے وعدہ کیا تھا اس بار اگر رمضان المبارک میں اللہ نے عمرہ کی سعادت نصیب کی تو تم بھی ساتھ چلنا ، اب اگر میں اور میرا بیٹا بھی ساتھ جاتے ہیں ، تو خرچہ بہت آئیگا ، تو کیا میں ان سے اپنے اکیلی کے عمرہ کا خرچ لے سکتی ہوں؟ کیونکہ میرے ساتھ جانے میں وہ کہتے ہیں دماغ دو طرفہ رہیگا، انکی پہلی بیوی ہمارے نکاح سے انجان بھی ہیں ۔
سائلہ کے شوہر کے ذمہ نان و نفقہ وغیرہ ضروری امور میں دونوں بیویوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لینا ضروری ہے،چنانچہ اس میں کمی بیشی اور کوتاہی سے کام لینا سائلہ کے شوہر کے لئے جائز نہیں، جبکہ سائلہ کے شوہر نے اگر سائلہ کو رمضان المبارک کے مہینے میں عمرہ پر لے جانے کا وعدہ کیا ہو، تو اسے اس وعدہ کی پاسداری کرتے ہوئے سائلہ کو عمرہ پر لے جانے کا اہتمام کرنا چاہیئے، لیکن اگر کسی واقعی عذر کی وجہ سے عمرہ پر جانے کی ترتیب نہ بن سکے، تو سائلہ کو اپنے شوہر سے عمرہ پر آنے والے اخراجات کے بقدر رقم لینےکےمطالبے کا حق حاصل نہیں۔