میری والدہ کی عمر 52 سال سے زیادہ ہے اور وہ اکیلی عمرہ ادا کرنا چاہتی ہیں، کیا وہ اکیلی عمرہ ادا کرنے جا سکتی ہیں بغیر کسی محرم کے ؟
کسی خاتوں کے لیے بغیر حرم حج یا عمرہ کا سفر کرنا جائز نہیں اگر چہ وہ عمر رسیدہ ہی کیوں نہ ہو، اس لیے سائل کی والدہ کو اگر جانا ہی ہو تو کسی محرم کے ساتھ جانے کا اہتمام کریں۔
کما فی الدر : (و) مع (زوج او محرم ) ولو عبدا اور میااو برضاع (بالغ ) قيد لهما كما فیالنحر يكتا ( عاقل او المراهق کبالغ ) جوهره (غیر مجوسی ولا فاسق ) لعدم حفظها (مع ) وجوبالنفقة المحرمها (عليها ) اھ
وفی الرد تحت :(قوله ومع زوج أو محرم) هذا وقوله ومع عدم عدة عليها شرطان مختصان بالمرأة فلذا قال لامرأة وما قبلهما من الشروط مشترك والمحرم من لا يجوز له مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو صهرية كما فی التحفة اھ (2/464)۔