محترم مفتی صاحب! میری عمر ۳۰ سال ہے اور میں غیر شادی شدہ ہوں میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں جب بھی عمرے کیلیے جاتا ہوں تو مسجد حرام میں جاکر وضو کرتا ہوں، لیکن عمرہ مکمل کرنے کے بعد جب واش روم جاتا ہوں نہانے کیلیے تو اُس وقت عضو خاص پر قطرے دیکھتا ہوں جو کہ خشک حالت میں ہوتے ہیں، مہربانی کرکے مجھے بتائیں کہ میرا عمرہ ہوتا بھی ہے کہ نہیں؟ اور مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیونکہ یہ میرے بس میں نہیں ہے، میں بہت زیادہ پریشان ہوں کہیں مجھ سے بے ادبی تو نہیں ہورہی ہے؟ میں آپ کے جواب کا منتظر ہوں۔
پیشاب کے خشک قطروں کا عضو خاص سے آنا تو نا معقول بات ہے، تاہم سائل کو اگر یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ دورانِ طواف پیشاب کے قطرے آئے ہیں تو طواف کے جتنے چکروں کے بعد اسے قطرے آئے ہوں وہ تو درست ہوگئے، بعد والے چکروں کا اِعادہ لازم ہے ورنہ دم لازم ہوگا۔
ففی غنیة الناسك: ولو طاف للعمرة كله او اكثره او اقله ولو شوطًا جنبًا او حائضًا او نفساء او محدثًا فعلیه شاة لا فرق فیه بین الكثیر والقلیل والجنب والمحدث اھ (۱۴۷)