السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
عرض ہے کہ
مشہور قاعدہ ہےکہ "تعرف الاشیاء باضدادها
رہنائ اس امر پر یہ مطلوب ہے کہ
کیا ہر چیز کو اسکی ضد کے ذریعے پہچانا جاتا ہے؟یا پہچانا جا سکتا ہے ؟
جیسے رات کے ذریعے دن
مذکر کے ذریعے مؤنث وغیرہم
ان دو مثالوں میں ان اشیاء کو ضد کے ذریعے سے پہچانا جارہا ہے
اول: تو اس بات کی تصریح کی جاۓ کہ مخلوق کی ضد کیا ہوگی؟
ثانی:کیا مخلوق کی ضد خالق ہوگی؟
اگر ہوسکتی ہے تو کیا اس مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ ہم خالق کو مخلوق کے ذریعے پہچانیں گے؟
جیساکہ کہا جاتا ہے کہ اللہ کو پہچاننا ہے تو اسکی مخلوق میں غور وفکر کرو
آخری میں سب سے ضروری اس کی رہنمائی فرمائیں کہ.
اس طرح کی بحث میں پڑنا اور ایسے دعوے کرنے والا کا اہلسنت والجماعت کے مذہب میں کیا حکم ہے
اولاًیہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ "تُعْرَفُ الْأَشْیَاءُ بِأَضْدَادِهَا" (چیزیں اپنی ضدوں سے پہچانی جاتی ہیں) کوئی ایسا کلی اور قطعی قاعدہ نہیں کہ ہر چیز کی معرفت لازماً اس کی ضد ہی سے حاصل ہو، بلکہ یہ ایک عمومی بات اورقاعدہ اکثریہ ہے کہ اکثروبیشتر اشیاء کی حقیقت اور امتیاز ان کی ضد کے مقابلے سے زیادہ واضح ہوجاتا ہے، جیسے دن اور رات، روشنی اور تاریکی، علم اور جہالت وغیرہ۔
لہٰذا ہر چیز کے لیے ضد کا ہونا ضروری نہیں، اور نہ ہر چیز کی معرفت صرف ضد ہی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔
جہاں تک مخلوق اور خالق کا تعلق ہے تو اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک خالق اور مخلوق کو ایک دوسرے کی ضد قرار دینا درست نہیں؛ کیونکہ "ضد" ان دو چیزوں کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی جنس میں ہوں اور ایک دوسرے کی نقیض یا مقابل ہوں، جبکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات میں یکتا، بے مثل اور مخلوق سے بالکل ماورا ہیں۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: (لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ)(اس جیسی کوئی چیز نہیں)
لہٰذا خالق اور مخلوق کے درمیان ضدین کاتعلق ہرگز نہیں کہ اس کی معرفت کےلیےاس قسم کے قاعدوں کوبطوردلیل پیش كياجائے، البتہ یہ کہنا درست ہے کہ مخلوقات میں غور و فکر کرنے سے خالق کی قدرت، حکمت، ربوبیت اور وحدانیت کا علم حاصل ہوتا ہے؛ کیونکہ مخلوق اپنے خالق کے وجود اور اس کی صفاتِ کمال پر دلالت کرتی ہے۔ قرآنِ کریم نے انسانوں کو بار بار آسمانوں، زمین، سورج، چاند اور دیگر مخلوقات میں غور کرنے کی دعوت دی ہے۔
باقی ایسے دقیق عقائدی مباحث میں بلا ضرورت الجھنے، مناظرانہ انداز اختیار کرنے یا شکوک و شبہات پھیلانے سے اجتناب ضروری ہے ۔