السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
عرض ہے کہ میں مسمٰی ۔۔۔ ساکن حال۔۔۔ کالونی قبرستان کے قریب ۔۔۔ مسجد کے قریب رہائش پزیر ہوں ،عرض ہےکہ میری بیٹی بنام ۔۔۔۔۔، جسکی شادی تقریباً 2 سال قبل ۔۔۔ سے ہوئی تھی،اس دوران اللہ نے دو بچیاں دی ہیں، ایک ڈیڑھ مہینے کی، اور دوسری 14 مہینے کی، مگر اس دوران ۔۔۔ کی بہنیں جو کہ طلاق یافتہ ہیں، انہوں نے بلا وجہ میری بیٹی کا جینا حرام کیا ہے، اور معمولی بات پر میری بیٹی کو مارنا، اسکی ویڈیو بناتے تھے،تا کہ یہ ثابت ہو جائے کہ۔۔۔ نفسیاتی ہے، حالانکہ یہ سب فضول ہے، انہیں نا چاقیوں کی وجہ سے 16 جنوری کو طلاق دی ہے ،جس کا ثبوت موجود ہے ،اور بچیاں بھی ۔۔۔کے پاس ہیں، اور اب یہ بھی پوچھنا ہےکہ ۔۔ کی عدت کتنی ہو گی؟ مزید یہ کہ ۔۔۔ اور اسکی بہن مل کرمیری بیٹی کی ویڈیو بناتے تھے، شرعاً حرام کام کا ارتکاب کرتے تھے ،اور بچیوں کا خرچہ کس کے ذمہ ہے؟ اور کب تک بچیاں ماں کے پاس رہیں گی؟
مزید یہ کہ جب سے میری بیٹی کی شادی ہوئی ہے، اسی وقت سے اب تک دھوکہ اور فراڈ ہی کرتا رہا ہے، اور میری بیوی کے انتقال کے وقت خرچ واخراجات کیلئے داماد نے مختلف مرحلوں میں 30 ہزار روپے کے قریب تعاون کی مد میں دئیے تھے، طلاق کے بعد اب داماد کہہ رہا ہے کہ میں نے ادھار دیئے ہیں ،اور میں کہتا ہوں کہ اگر آپ نے ادھار دئے ہیں، تو میں قرآن پر پیسے رکھتا ہوں، آپ اٹھالیں ،اور میر ی بیوی کے انتقال کے 14 یا 15 مہینے ہو چکے ہیں، اسکا جینا حرام کر کے رکھا ہے، اور میں ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہوں، رکشہ چلا کے گزر بسر کرتا ہوں، 60 سال میری عمر ہے، بیمار رہتا ہوں ،اسکو کہاں سے پیسے دوں گا ،اور داماد نے جو کچھ میرے ساتھ کیا ،شرعاً اسکا حکم بیان کیجئے ،میں جواب کا انتظار کروں گا ،لہذا آنجناب سے گزارش ہےکہ مجھے فتوی دیں،تا کہ میں اہل علاقے کی صلح کمیٹی کے سامنے پیش کرسکوں، آپکی عین نوازش ہوگی۔
سوال میں ذکرکردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گو ئی سے کام نہ لیا گیا ہو ،اس طور پر کہ واقعۃً سا ئل کے داماد نے اپنی بہنوں کے ساتھ ملکر بلاوجہ اس کی بیٹی کو ستایا، مارا پیٹا، یا اس پر جھوٹا الزام لگایاہو، اوراس کی اجازت کے بغیر خاص طور پر اسے بدنام کرنے، یا جھوٹا ثابت کرنے کے لئے ویڈیو بنائی ہو ،تو یہ تمام افعال شرعاً ناجائز وحرام تھے، جس کی وجہ سے وہ سب گناہ گار ہو ئے ہیں ،لہذاا ن پر لازم ہے کہ اپنے اس غلط رویہ سے باز آکر بصدق دل توبہ واستغفار کریں ، اورآئندہ ایسا نہ کرنے کا پختہ عزم بھی کریں ،اور سائل کی بیٹی سے معافی بھی مانگیں ۔
جبکہ طلاق ثلاثہ ہوجانے کے بعد سائل کی بیٹی پر عدت گزارنا لازم ہے ، چنانچہ جس دن طلاق ہوئی ہے،اس کے بعدسے سائل کی بیٹی تین ماہواریاں مکمل کرے گی ،بشرطیکہ حاملہ نہ ہو۔
اسی طرح میاں بیوی کے درمیان علیحدگی ہو جانے کے بعد بچىوں كى عمر نو سال مکمل ہونے تک ان کی پرورش کا حق ان کی والدہ کو حاصل ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ بچیوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے، یا وہ اپنے حق سے دستبردار نہ ہو جائے، بصورتِ دیگر یہ حق بالترتیب ان بچیوں کی نانی، پھر دادی، پھر خالہ اور پھر پھوپھی کو منتقل ہوگا،اس دوران بچیوں پر آنے والے تمام اخراجات کی ذمہ داری بچیوں کے والد پر لازم ہوگی، اور بچیوں كا مذكور عمروں تك پہنچنے پر اگر والد انہيں اپنی تحویل میں لینا چاہے، تو اس کو لینے کاحق حاصل ہے۔
نیز اسی طرح سائل کی بیوی کے انتقال کے وقت اس کے داماد نے خرچ واخراجات کیلئے مختلف مرحلوں میں 30 ہزار روپے کےقریب تعاون کے مد میں جو رقم دی تھی، اگر واقعۃً قرض کی صراحت کیے بغیر یہ رقم بطور تعاون کے دی ہوتو ایسی صورت میں یہ رقم ہبہ اور گفٹ شمار ہوگی ،لہذا ا ب داماد کے لئے اس رقم کا مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے ۔
قال الله تعالى: وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ (سورة البقرة /٢٢٨)-
وفی جامع الترمذی: عن ابی صرمۃ، أن رسول اللہ ﷺ قال: من ضار ضار اللہ بہ، ومن شاق شاق اللہ علیہ اھ (کتاب البر والصلۃ عن رسول اللہ ﷺ باب ماجاء فی الخانیۃ و الغشی ج 2 صـ 841 ط: بشری)۔
وفي الدر المختار أيضا: (والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب. (إلى قوله)،(والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ في ظاهر الرواية.اهـ
وفي رد المحتار: (قوله: حتى يستغني عن النساء) بأن يأكل ويشرب ويستنجي وحده، (إلى قوله) (قوله: أي تبلغ) وبلوغها إما بالحيض، أو الإنزال، أو السن ط. (كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 566، ط: ايج ايم سعيد)۔
وفي الدر المختار: (تستحق) الحاضنة (أجرة الحضانة إذا لم تكن منكوحة ولا معتدة لأبيه) وهي غير أجرة إرضاعه ونفقته ألخ۔
وفي رد المحتار: (قوله: وهي غير أجرة إرضاعه ونفقته) قال في البحر: فعلى هذا يجب على الأب ثلاثة: أجرة الرضاع، وأجرة الحضانة، ونفقة الولد اهـ (كتاب الطلاق، باب الحضانة،ج:3،ص:561،ط:ايج ايم سعيد)۔
وفي الهندية أيضا: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين ألخ (الباب السادس عشر في الحضانة، ج: 1، ص: 542، ط: مكتبة ماجدية)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0