السلام علیکم! ایک خاتون عمر تقریباً ۶۶ سال ہے، (بیوہ) عدت میں ہے کیا وہ اپنی بیٹی کے رشتے کے سلسلے میں لڑکا دیکھنے جاسکتی ہے؟ فقہ حنفی کی روشنی میں جواب دے کرمشکور فرمائیں۔
مذکور بیوہ خاتون کا دورانِ عدت بیٹی کے رشتے کے سلسلے میں لڑکا دیکھنے کیلئے گھر سے نکلنا جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی بدائع الصنائع: وأما المتوفی عنہا زوجہا فیباح لہا الخروج نہارا (الی قولہ) وأما المتوفی عنہا زوجہا فلا تخرج لیلا ولا بأس بأن تخرج نہارا فی حوائجہا: لأنہا تحتاج إلی الخروج بالنہار لاکتساب ما تنفقہ: لأنہ لا نفقۃ لہا من الزوج المتوفی بل نفقتہا علیہا فتحتاج إلی الخروج لتحصیل النفقۃ، ولا تخرج باللیل لعدم الحاجۃ إلی الخروج باللیل۔ اھـ (ج۳، ص۲۰۴) واللہ اعلم بالصواب
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0