السلام علیکم ! میری بہن کو طلاقِ مبارات ہوئی ہے پانچ اکتوبر 2023 کو , اور وہ پارلر کا کورس پہلے ہی سے کر رہی تھی ، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ وہ پارلر کا کام سیکھ رہی ہے ، جس کے 2 لاکھ 85 ہزار جمع کرائے ہیں ،جو چار مہینے کا ہے تاکہ وہ سیکھ کر اپنےپیروں پر کھڑی ہو سکے ، کیونکہ اس کی جاب ہی اس کا سہارا ہے ، لہذا ہمیں اس کی کافی ٹینشن ہے ، کیا وہ نقاب کر کے جا سکتی ہے؟ کیونکہ پالر میں صرف لڑکیاں ہوتی ہیں ۔
واضح ہوکہ دورانِ عدت عورت کا بلاضرورت شرعی گھر سے نکلنا شرعاً جائز نہیں ،البتہ اگر ضرورت اتنی شدید ہو کہ اس کے لیے جائے بغیر مسئلہ حل نہ ہو تا ہو تو فقہاءِ کرام نے مجبوری کی حالت میں عورت کو دن کے وقت گھر سے نکلنے کی اجازت دی ہے، البتہ رات اپنے گھر پر گزارنا لازم ہے ،لہذا صورتِ مسؤلہ میں سائل کی بہن پر اپنے شوہر کے گھر عدت مکمل کرنا شرعاً لازم ہے ،دورانِ عدت گھر سے باہر نکلنا شرعاً جائز نہیں،بلکہ گناہ ہے ،لہذا سائل کی بہن کو چاہیئے کہ پارلر والوں کو اصل صورتِ حال اور حکمِ شرعی سے آگاہ کرکے کچھ مہلت لے لے ،لیکن اگر پارلر والوں کی طرف سے اس کی بالکل اجازت نہ ہو اور کورس میں شریک نہ ہونے کی وجہ سے مذکور رقم ضائع ہونے کا خطرہ ہو اور آئندہ کے لئے سائل یا اس کا والدبھی نان نفقہ برداشت نہ کرسکتا ہو ، تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کی بہن کیلئے دورانِ عدت شرعی پردہ کا اہتمام کرتے ہوئے کورس کیلئے جانے کی گنجائش ہے، البتہ رات اپنے شوہر کے گھر پر گزارنا لازم ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنْتُمْ مِنْ وُجْدِكُمْ وَ لَا تُضَارُّوهُنَّ لِتُضَيِّقُوا عَلَيْهِنَّ (الطلاق:5)-
و فی الدرالمختار: و لاتخرج معتدۃ رجعی و بائن بای فرقۃ کانت علی مافی الظہیریۃ و لو مختلعۃ علی نفقۃ عدتھا فی الاصح ،(و معتدة موت تخرج في الجديدين و تبيت) أكثر الليل (في منزلها) لأن نفقتها عليها فتحتاج للخروج ،
و فی الشامیۃ : تحت (قولہ فی الاصح الخ) لانھا ھی التی اختارت ابطال حقھا فلا یبطل بہ حق علیھا کما فی الزیلعی و مقابلہ ما قیل انھا تخرج نہارا لانھا قد تحتاج کالمتوفی عنھا ، قال فی الفتح : و الحق ان علی المفتی ان ینظر فی خصوص الوقائع ، فان علم فی واقعۃ عجز ھذہ المختلعۃ عن المعیشۃ ان لم تخرج افتاھا بالحل ، و ان علم قدرتھا افتاھا بالحرمۃاھ (3/535)۔
و فی الدرالمختار : و تعتدان ای معتدۃ طلاق و موت فی بیت وجبت فیہ و لا تخرجان منہ الاان تخرج او یتہدم المنزل او تخاف انہدامہ او تلف مالھا او لاتجد کراء البیت و نحو ذالک من الضرورات فتخرج لاقرب موضع الیہ اھ (3/536)۔
و فی البنایۃ : (و المبارأة كالخلع) المبارأة من بارأ شريكه ، أي إبراء كل واحد منهما صاحبه ، و هي بالهمزة ، قال في " المغرب ": ترك الهمزة خطأ . م (كلاهما) ش: أي كل من المبارأة و الخلع م: (يسقطان كل حق لكل واحد من الزوجين على الآخر مما يتعلق بالنكاح) أي بسبب النكاح مثل المهر و النفقة الماضية دون المستقبلة ، لأن المختلعة و المبارئة تستحق النفقة و السكنى ما دامت في العدة، و به صرح الحاكم الشهيد في " الكافي "، و قوله - بما يتعلق على الآخر بالنكاح - احتراز عن دين وجب بسبب آخر فإنه لا يسقط على ظاهر الرواية ، و نفقة العدة لا تسقط أيضا إلا بالتسمية ، و كذا السكنى بالإجماع اھ (5/526)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0