کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں مسماۃ زکیہ کو میرے شوہر نے محرم الحرام کے مہینے میں تین طلاقیں دی ہیں ، لیکن میرے ہار مونز کا مسئلہ ہے ، جس کی وجہ سے ماہواری آنے میں کافی تاخیر ہو جاتی ہے ، مہینے مہینے لگ جاتے ہیں ، جبکہ میری عمر 37 سال ہے اب میرے لئے ایک دوسری جگہ سے رشتہ آیا ہے ، لیکن اس طلاق کے بعد مجھے صرف ایک حیض ہی آیا ہے اب تک ، اب معلوم کرنا ہے کہ میں دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہوں کہ نہیں ؟ جبکہ یہ بات تو یقینی ہے کہ مجھے کوئی حمل بھی نہیں ہے ، یا مجھے تین ماہواریوں تک ہی انتظار کرنا ہوگا ، چاہے جتنا وقت لگ جائے؟ جو بھی شرعی حکم ہو تحریر فرمائیں۔
سائلہ اگر ماہواری سے مایوسی کی عمر کو نہ پہنچی ہو ، بلکہ اسے فقط ہارمونز کی بیماری کی وجہ سے ماہواری آنے میں تاخیر ہو رہی ہو ، تو ایسی صورت میں سائلہ پر تین ماہواریاں عدت ہی گزارنا لازم ہوگا ، دوران عدت دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہ ہوگا ، بلکہ اس سلسلہ میں کسی لیڈی ڈاکٹر سے مشورہ کرتے ہوئے علاج معالجہ کرکے تیسری ماہواری کے اختتام تک عدت کے مکمل ہو نے کا انتظار کرنا ضروری ہے ، تاہم علاج معالجہ کی صورت میں بھی اگر ماہواری آنے کی کوئی امید نہ ہو تو مذکور بیماری یا کسی دیگر وجوہات کی بنا پر آخری بار ماہواری کے خون کے رکنے کے بعد سے سائلہ کو نو ماہ تک ماہواری نہ آئے ، تو نو ماہ کی مدت کے بعد وہ شرعاً مایوسی کی عمر کو پہنچنے والی عورت شمار ہوگی ، جس کے بعد اسے تین ماہ عدت گزارنا لازم ہوگا ، اور ان تین ماہ مکمل ہونے پر وہ اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی ۔
كما في المغني لابن القدامة : روي عن عمر رضي الله عنه أنه قال في رجل طلق امرأته فحاضت حيضة أو حيضتين فارتفع حيضها لا تدري ما رفعه تجلس تسعة أشهر فإذا لم يستبن بها الحمل تعتد بثلاثة أشهر فذلك سنة ولانعرف لها مخالفا قال ابن المنذر قضى به عمر رضي الله عنه بين المهاجرين و الأنصار ولم ينكر منكر الخ (ج 8، ص 90، ط: دار الفكر)–
و في البحر الرائق : ولو قضى قاض بانقضاء عدة الممتد طهرها بعد مضي تسعة أشهر نفذ كما في جامع الفصولين ونقل في المجمع أن مالكا يقول إن عدتها تنقضي بمضي حول وفي شرح المنظومة أن عدة الممتد طهرها تنقضي بتسعة أشهر كما في الذخيرة معزيا إلى حيض منهاج الشريعة ، ونقل مثله عن ابن عمر قال وهذه المسألة يجب حفظها ؛ لأنها كثيرة الوقوع وذكر الزاهدي وقد كان بعض أصحابنا يفتون بقول مالك في هذه المسألة للضرورة الخ ( باب العدة ، ج 4، ص 131، ط: ماجدية) –
وفي الدر المختار : الشابة الممتدة بالطهر بأن حاضت ثم امتد طهرها، فتعتد بالحيض إلى أن تبلغ سن الاياس جوهرة وغيرها. وما في شرح الوهبانية من انقضائها بتسعة أشهر، وقال الشامي : قال العلامة : والفتوى في زماننا على قول مالك وعلى ما في جامع الفصولين : لو قضى قاض بانقضاء عدتها بعد مضي تسعة أشهر نفذ ( إلى قوله ) قال الزاهدي : وقد كان بعض أصحابنا يفتون بقول مالك في هذه المسألة للضرورة الخ ( باب العدة ، ج 3 ، ص 508-509 ، ط : سعيد ) -
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0