السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ میں نے گھر یلو ناچاقی اور بیوی کے ساتھ نہ رہنے کی وجہ سے تحریری طور پر تین طلاقیں دیدی ہیں، اب معلوم کرنا ہے کہ اس صورت میں طلاق واقع ہو چکی ہے یا نہیں اور اگر ہو گئی ہے تو کیا بیوی کا خرچہ شرعا میرے ذمہ لازم ہے ؟ جبکہ وہ طلاق سے پہلے بھی میرے ساتھ نہیں رہتی تھی اور نہ ہی رہنے کیلئے تیار تھی اور کیا اس صورت میں عدت کا خرچہ لازم ہوگا؟ جبکہ وہ عدت بھی اپنے ماں باپ کے گھر گزار رہی ہے اور حقِ مہر کا کیا حکم ہے ؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
سائل نے تحریری طور پر جب اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں تو اس سے سائل کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا لہذا دونوں پر لازم ہےکہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے،جبکہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، جہاں تک دورانِ عدت نان نفقہ کا حکم ہے تو چونکہ مطلقہ پر اپنے شوہر کے گھر عدت گزارنا شرعاً لازم ہے، چنانچہ اگر سائل کے بلانے کے باوجود وہ سائل کے گھر نہ آئے تو سائل پر دورانِ عدت کا نان نفقہ لازم نہیں، جبکہ طے شدہ حق مہر کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما قال اللہ تعالی: فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهٗ مِنْ بَعْدُ حَتّٰى تَنْكِحَ زَوْجًا غَیْرَهٗ الآیۃ (آیتـ 230 سورۃ البقرۃ)
وفی الھندیۃ: الكتابة على نوعين مرسومة وغير مرسومة (إلی قولہ) وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق و تلزمها العدة من وقت الكتابة (کتاب الطلاق الفصل السادس ج 1 صـ 378ط: ماجدیۃ)
وفی بدائع الصنائع: وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر الخ (کتاب الطلاق وأما الطلاق البائن فنوعان الخ ج 3 صـ 187 ط: سعید)
وفی الدر المختار: (لا) نفقة لأحد عشر: مرتدة، ومقبلة ابنه، ومعتدة موت، ومنكوحة فاسدا وعدته، وأمة لم تبوأ، وصغيرة لا توطأ، و (خارجة من بيته بغير حق) وهي الناشزة حتى تعود ولو بعد سفره خلافا للشافعي، والقول لها في عدم النشوز بيمينها، وتسقط به المفروضة لا المستدانة في الأصح كالموت، قيد بالخروج؛ لأنها لو مانعته من الوطء لم تكن ناشزة الخ (کتاب الطلاق باب النفقۃ ج 3 صـ576-575 ط: سعید)
وفی رد المحتار: تحت(قوله وتجب لمطلقة الرجعي والبائن) كان عليه إبدال المطلقة بالمعتدة؛ لأن النفقة تابعة للعدة (إلی قولہ) فلا نفقة على الثاني لفساد نكاحه ولا على الأول إن خرجت من بيته لنشوزها وفي المجتبى: نفقة العدة كنفقة النكاح. وفي الذخيرة: وتسقط بالنشوز وتعود بالعود اھ (کتاب الطلاق،باب النفقہ ،ج:3،ص:609،سعید)
وفی بدائع الصنائع: أن المهر ملك المرأة وحقها؛ لأنه بدل بضعها، وبضعها حقها وملكها، والدليل عليه قوله عز وجل: {وآتوا النساء صدقاتهن نحلة} [النساء: 4] أضاف المهر إليها فدل أن المهر حقها وملكها، وقوله عز وجل: {فإن طبن لكم عن شيء منه نفسا فكلوه هنيئا مريئا} [النساء: 4] وقوله تعالى: منه أي: من الصداق؛ لأنه هو المكنى السابق أباح للأزواج التناول من مهور النساء إذا طابت أنفسهن بذلك، ولذا علق سبحانه وتعالى الإباحة بطيب أنفسهن، فدل ذلك كله على أن مهرها ملكها وحقها الخ (کتاب الطلاق ج 2 صـ290 ط: سعید)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0