السلام علیکم جناب تھوڑی دیر پہلے ایک میسج کیا گیا تھا کچھ معلومات لینی تھیں کہ ایک خاتون تھیں جو ڈھائی سال سے اپنے والد صاحب کے گھر پہ ہیں کچھ ماہ پہلے انہوں نے اپنے شوہرسے خلع لیا دونوں میاں اور بیوی کی رضامندی کے تحت ہوا تھا تو ان خاتون کے آج تین ماہ دس دن مکمل ہو چکے ہیں عدت کے , تو دین کے مطابق دو ماہ حیض آتے ہیں وہ دو مرتبہ ٹائم پر آچکے تھے , تیسرے ماہ کا حیض آنا تھا وہ آیا نہیں تھا تو انہوں نے ڈاکٹر سے مشورہ کیا تو پھر ڈاکٹر نے انہیں دوائی دی , دوائی کھانے کے بعد بھی نہیں آئے تو ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کو شاید بند ہو چکے ہیں ان کی عمر ہے 48 سال آج ان کے تین ماہ دس دن مکمل ہو چکے ہیں تو کیا وہ اپنی عدت سے اٹھ سکتی ہیں ؟ کیونکہ ان کی عدت کا ٹائم پورا ہوچکا ہے آج
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر مذکورہ خاتون کی صحت اور مزاج یا علاقائی خواتین کی عادت کے مطابق اگر اس کی ماہواری مستقل طور پر بند نہ ہوئی ہو بلکہ عارضی طور پر بند ہوچکی ہو (جیسا کہ سوال سے بھی بظاہر یہی معلوم ہورہا ہے) تو ایسی صورت میں مذکورہ خاتون ’’آیسہ‘‘ شمار نہ ہوگی، بلکہ مذکورہ خاتون کے ذمہ تین ماہواریاں پوری کرنے تک عدت میں بیٹھنا لازم ہوگا، چنانچہ مذکورہ خاتون کو چاہیئے کہ ماہواری آنے کیلئے علاج و معالجہ کا سلسلہ جاری رکھے اور علاج و معالجہ کے بعد جب مذکورہ خاتون کی تیسری ماہواری پوری ہوجائے گی تو ایسی صورت میں مذکورہ خاتون کی عدت مکمل ہوجائے گی، تاہم اگر علاج و معالجہ کے باوجود بھی مذکورہ خاتون کی ماہواری شروع نہ ہوئی تو ایسی صورت میں ایک سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اس کی عدت مکمل ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔
وفی الدر المختار مع رد المحتار: الشابة الممتدة بالطھر بأن حاضت ثم امتد طھرھا فتعتد بالحیض الی أن تبلغ سن الإیاس، وما فی شرح الوھبانیة من انقضائھا بتسعة أشھر الخ وتحتہ فی الشامیة: قال العلامة: والفتوی فی زماننا علی قول مالک وعلی ما فی جامع الفصولین لو قضی قاض بائقضاء عدتھا بعد مضی تسعة أشھر نفذ (الی قولہ )قال الزاھدی: وقد کان بعض أصحابنا یفتون بقول مالک فی ھذہ المسئلة للضرورة. اھـ (ج۳، ص۵۰۸ – ۵۰۹)
وفی البحر الرائق: ولو قضی قاض بانقضاء عدة الممتدة طھرھا بعد مضی تسعة أشھر نفذ کما فی جامع الأصولین ونقل فی المجموع أن مالکا یقول: ان عدتھا تنقضی بمضی حول وفی شرح المنظومة: ان عدة الممتدة طھرھا تنقضی بتسعة أشھر کما فی الذخیرة معزیا الی حیض منھاج الشریعة ونقل مثلہ عن ابن عمر قال: وھذہ المسئلة یجب حفظھا لأنھا کثیرة الوقوع وذکر الزاھدی وقد کان بعض اصحابنا یفتون بقول مالک فی ھذہ المسئلة للضرورة. اھـ (ج۴، ص۲۲۰ – ۲۲۱)
وفی الفتاویٰ التاتار خانیة: فی روایة النوادر لا تقدیر فی حد الآیسة بالسنین وتفسیر الآیسة علی ھذہ الروایة أن تبلغ من السن ما لا تحیض مثلھا، فاذا بلغت ھذا المبلغ وانقطع دمھا یحکم بایاسھا، فإن رأت بعد ذٰلک ما یکون حیضا علی ھذہ الروایة، ویظھر کونہ حیضا فی حق بطلان الاعتداد بالأشھر. اھـ (ج۱، ص۴۷۲)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0