کیا فرماتےہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ خاوند کے مرنے کے بعد عورتیں تمام زیورات اُتار دیتی ہیں اور چوڑیاں توڑ ڈالتی ہیں اور پھر عمر بھر نہیں پہنتیں یا نکاحِ ثانی وغیرہ تک، اس کی شرعاً کیا حقیقت ہے نیز رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد آپؑ کی ازواجِ مطہرات کا تا زندگی کیا عمل رہا؟ احادیث کی روشنی میں واضح فرمائیں۔
شوہر کی وفات پر عورتوں کا عمر بھر کے لیے یا عقدِ ثانی تک زیورات اتار دینا اور چوڑیاں توڑنے کو لازم سمجھنا جہالت پر مبنی عمل ہے، جس سے احتراز لازم ہے، البتہ شوہر کی وفات کے بعد چار ماہ دس دن تک سوگ کرنا ،یعنی زیب و زینت ترک کر کے میلی کچیلی رہنا واجب ہے اور ازواجِ مطہرات سے بھی یہی منقول ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿وَ الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ يَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَ عَشْرًا﴾(البقرة: 234)۔
و فی صحيح البخاري: قالت زينب، و سمعت أم سلمة، تقول: جاءت امرأة إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فقالت: يا رسول الله، إن ابنتي توفي عنها زوجها ، و قد اشتكت عينها ، أفتكحلها؟ فقال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: ’’لا‘‘ مرتين أو ثلاثا، كل ذلك يقول: ’’لا‘‘ ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’إنما هي أربعة أشهر و عشر، و قد كانت إحداكن في الجاهلية ترمي بالبعرة على رأس الحول‘‘ اھ(7/ 59)۔
و فی البحر الرائق: قوله ( تحد معتدۃ البت و الموت بترك الزینة و الطیب و الکحل و الدھن إلا بعذر و الحناء و لبس المزعفر و المعصفر إن کانت مسلمة بالغة) أی تحد المبانة و المتوفی عنھا زوجھا بترک ما ذکر اھ(۴/ ۲۵۲)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0