السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
آج سے 2 سال پہلے 2021 میں میری شادی ہوئی تھی۔شادی کے بعد میں 18دن اپنے شوہر کے ساتھ اس کے گھر میں رہی، پر اس درمیان ہمارے درمیان کوئی میاں بیوی والا تعلق نہیں بنا۔اس کے بعد وہ اور اس کے ماں باپ واپس لندن چلے گئے (کیونکہ ان کا گھر وہاں ہی تھا)۔پھر کچھ مسائل پیدا ہونے شروع ہو ئے، اس کے بعد ان کے حل کے لیے میرے گھر والوں نے ان سے پاکستان آنے کا بھی کہا لیکن وہ نا آئے۔اس تمام عرصے میں نا تو وہ لڑکا واپس آیا نا اس کے گھر والے۔ نا ہی اس لڑکے نے مجھے خرچہ دیا نا ہی کوئی اور ذمہ داری اُٹھائی۔شادی کے 18 دن کے بعد سے میں اپنے ماں باپ کے گھر پر ہی ہوں۔مسئلے مسائل جو بھی ہو ئے انہیں حل کرنے کے بجائے آخر 2 سال بعد اس لڑکے نے مارچ 2023 میں بذریعہ خط مجھے طلاق بھجوا دی۔
تو اب میرے لیے عدت (iddat) کا کیا حکم ہو گا؟ کیا مجھ پر عدت واجب ہوگی؟
واضح ہو کہ نکاح کے بعد اگر میاں بیوی کے درمیان ایسی تنہائی میں ملاقات کا موقع میسّر آجائے جس میں ہمبستری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو(یعنی خلوتِ صحیحہ ہوجائے)تو ایسی صورت میں اگرچہ میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہو ،تب بھی طلاق ہوجانے کی صورت میں بیوی کے ذمہ عدت گزارنا شرعاً لازم ہوتاہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں طلاق کے بعد سائلہ کے ذمہ عدت گزارنا لازم اور ضروری تھا،چنانچہ اگر تین ماہواریاں گزر کر سائلہ کی عدت مکمل ہوچکی ہوتو اب سائلہ کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آذاد ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 192) :
والثاني: الدخول أو ما هو في معناه، وهو الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح لعموم قوله تعالى {يا أيها الذين آمنوا إذا نكحتم المؤمنات ثم طلقتموهن من قبل أن تمسوهن فما لكم عليهن من عدة تعتدونها} [الأحزاب: 49] من غير تخصيص إلا أن الخلوة الصحيحة في النكاح الصحيح ألحقت بالدخول في حق وجوب العدة لما ذكرنا أنها ألحقت به في حق تأكيد كل المهر ففي وجوب العدة أولى احتياطا، وتجب هذه العدة على الحرة، والأمة.
وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 520) :
(ومبدأ العدة بعد الطلاق و) بعد (الموت) على الفور (وتنقضي العدة وإن جهلت) المرأة (بهما) أي بالطلاق والموت لأنها أجل فلا يشترط العلم بمضيه سواء اعترف بالطلاق، أو أنكر.
(قوله: لأنها أجل) أي لأن العدة أجل فلا يشترط العلم بمضيه أي بمضي الأول. اهـ. ح وفي عامة النسخ لأنهما بضمير التثنية أي عدة الطلاق وعدة الموت.
قلت: وهذا مبني على تعريف البدائع من أن العدة أجل ضرب لانقضاء ما بقي من آثار النكاح وقدمنا ترجيحه.
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0