السلام علیکم ! میراسوال یہ ایک عورت عدت میں بیٹھی ہوئی ہے، اور سیلاب کی وجہ سے ان کا گھر گرگیاہے، اور وہاں رہنے کی کوئی سہولت نہیں رہی، گھر چاروں طرف پانی کھڑاہے، تو کیاایسی صورت میں وہ اپنی عدت کہی اور جا کر پوری کرسکتی ہے، مہربانی فرماکر راہنمائی کردیجئے۔
صورت مسئولہ میں جس میں گھر میں مذکور عورت عدت گزاررہی تھی، جب وہ گھر سیلاب کی وجہ سے گر کر رہنے کا قابل نہیں رہا، تو ایسی مجبوری کی صورت میں وہ کسی ایسی جگہ اپنی عدت پوری کرسکتی ہے، جہاں اسے دوران عدت معاشی اور عزت و آبروکے حوالے کسی قسم پریشانی کا سامنا نہ کرنے پڑے۔
فی الدرالمختار:
(و تعتدان) ای معتدة طلاق و موت (فی بیت وجبت فیہ) ولا یخرجان منہ ( الا ان تخرج او فینھدم المنزل او تخاف) انھدامہ او (تلف مالھا اولا تجد کراء البیت) و نحو ذلک من الضرورات فتخرج لا قرب موضع الیہ۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0