السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ امید ہے خیریت سے ہونگے۔
مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ جہاں میرا رشتہ طے ہوا ہے ،وہ میری والدہ کی خالہ کی بیٹی ہیں۔ میری ہونے والی ساس میری والدہ کی خالہ ہے تو کیا میرا ان ( والدہ کی خالہ سے ) سے ابھی سے ہی پردہ ہے یا وہ میرے لئے محرم ہیں؟
دوسری بات جو اہم ہے کہ ایک بار میری ہونے والی ساس نے جب میں ان سے ملنے گیا تو مجھے گلے سے لگا کر پیار کیا جب مجھے پیار کیا تو مجھے شہوت محسوس ہوئی، لیکن اتنا مجھے یاد ہے کہ آلہ میں انتشار نہیں آیا تھا ،اس سے پہلے ہی مجھے چھوڑ دیا تھا تو کیا اب حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی؟ براہ کرم جواب دے کر میری پریشانی دور کریں۔ جزاک اللہ
سائل کے بیان کے مطابق اگر اس کی ہونے والی ساس سے ملتے وقت فقط دل میں خیال آیا تھا تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی ،
جبکہ سائل کی والدہ کی خالہ اگر چہ سائل کے لیے محرم ہے، تاہم آئندہ سائل کو اس طرح ملنے سے احتیاط کرنی چاہیے۔
كما في الدر المختار: والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى و في امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قلبه أو زيادته اھ (3/ 33، كتاب النكاح، فصل في المحرمات )
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: قرابة) وفروع أجداده وجداته ببطن واحد فلهذا تحرم العمات والخالات وتحل بنات العمات والأعمام والخالات والأخوال فتح اھ (3/ 28، فصل في المحرمات).
كما في الفتاوى الهندية: المحرمات بالنسب وهن (الى قوله) وأما الخالات فخالته لأب وأم وخالته لأب وخالته لأم وخالات آبائه وأمهاته اھ (1/ 273، كتاب النكاح ، الباب الثالث في بيان المحرمات).
و في فتاوى قاضي خان: أما المحرمات بالنسب ما نص الله تعالى في قوله حرمت عليكم أمهاتكم الآية الأم بالرشدة والزنية حرام (إلی قوله) وكذا العمات والخالات من الوجوه الثلاثة وعمات الأصول وخالاتهم اھ (ص: 100، باب في المحرمات )
الفتاوى البزازية : وذكر السرخسي وبكر أنه يشترط فيه انتشار الآلة أو أن یزداد انتشاراً لو منتشر و عليه الفتوى اھ (٢/٢٠، ما يثبت به حرمة المصاهرة ) .
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: وانتفاء محلية المرأة للنكاح شرعا بأسباب تسعة: الأول المحرمات بالنسب: وهن فروعه وأصوله وفروع أبويه وإن نزلوا وفروع أجداده وجداته إذا انفصلوا ببطن واحد اھ (3/ 98،کتاب النكاح ، فصل في المحرمات)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: ووجود الشهوة من أحدهما كاف، فإن ادعتها وأنكرها فهو مصدق إلا أن يقوم إليها منتشرا فيعانقها؛ لأنه دليل الشهوة كما في الخانية حد الشهوة للاختلاف، فقيل: لا بد أن تنتشر آلته إذا لم تكن منتشرة أو تزداد انتشارا إن كانت منتشرة اھ (3/ 107)
و في الهداية شرح البداية: ثم إن المس بشهوة أن تنتشر الآلة أو تزداد انتشارا هو الصحيح اھ (1/ 193، کتاب النکاح) والله اعلم الا الصواب