ایک ایپ انویسٹمنٹ لیتی ہے، اور پھر روازنہ کی بنیاد پر ہمیں ٹاسک بھیجتی ہے، ان پر کلک کرتے ہیں تو کچھ انسٹال ہونے کا پراسس نظر آتا ہے، مگر وہ ہمارے موبائل میں انسٹال نہیں ہوتا،ایسا کرنے سے ہر انسٹال کے بدلے ہمیں پچاس روپے ملتے ہیں،اس طرح روزانہ کے صرف دس ٹاسک ملتے ہیں،جتنی زیادہ انویسٹمنٹ ہو اتنے زیادہ ٹاسک اور اتنا زیادہ منافع، کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ مہربانی فرما کر جواب دیںا س بارے میں ہم کافی پریشان ہے۔
سائل نے سوال میں مذکور ایپ کے طریقہ کار کی جو تفصیل ذکر کی ہے، آج کل اس نوعیت کے کاروبار بہت رائج ہے، لیکن اس میں عموماً شرعی اصول وضوابط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا، نیز اس میں دھوکہ دہی اور پیسے ڈوب جانے کا بھی قوی اندیشہ رہتا ہے، لہذا ان جیسے ایپس میں بغیر تحقیق کے پیسے انویسٹ نہیں کرنے چاہیئے۔
کما فی الھدایۃ : قال الاجرۃ لا تجب بالعقد وتستحق باحدی معانی الثلاثۃ اما بشرط التعجیل او بالتعجیل من غیر شرط او باستیفاء معقود علیہ الخ ( کتاب الاجارۃ، ج3، ص297، ط: رحمانیۃ)۔
وفی الھندیۃ: الاجر لایملک بنفس العقد ولا یجب تسلیمہ بہ عندنا (إلی قولہ) ثم الأجرۃ تستحق بأحد معان ثلاثۃ اما بشرط التعجیل أو بالتعجیل أو باستیفاء المعقود علیہ فإذا وجد أحد ھذہ الأشیاء الثلاثۃ فإنہ یملکھا کذا فی شرح الطحاوی و کما یجب الاجر باستیفاء المنافع یجب بالتمکن من استیفاء المنافع إذا کانت الاجارۃ صحیحۃ۔إلخ( کتاب الإجارۃ، الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ، ج: 4، ص: 313، ط: مکتبہ ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار : (ھی) لغۃ اسم للأجرۃ وھو ما استحق علی عمل الخیر ولذا یدعی بہ یقال اعظم اللہ أجرک (تملیک نفع) مقصود من العین (بعوض) حتی لو استاجر ثیابا أو أوانی لیتجمل بھا أو دآبۃ لیجنبھا بین یدیہ أو دارا لیسکنھا أو عبدا أو غیر ذلک لا لیستعملہ بل لیظن الناس أنہ لہ فالإجارۃ فاسدۃ فی الکل ولا أجر لہ لأنھا منفعۃ غیر مقصودۃ من العین الخ
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ مقصود من العین) أی فی الشرع ونظر العقلاء (إلی قولہ) فإنہ و إن کان مقصودا للمستأجر لکنہ لا نفع فیہ ولیس من المقاصد الشرعیۃ الخ (کتاب الاجارۃ، ج6، ص4، ط:سعید)۔