گناہ و ناجائز

بلی کی اذیت سے بچنے کے لئے اسے مارناجائزہے؟

فتوی نمبر :
35452
| تاریخ :
2018-09-19
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بلی کی اذیت سے بچنے کے لئے اسے مارناجائزہے؟

مفتی صاحب !میں نے پوچھنا یہ تھا کہ ایک بلی نے پریشان کیا ہے گھر میں غلاظت پھیلاتی ہے کہیں پر پیشاب کر لیتی ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

یہ بلی اگر واقعی گھر والوں کے لیے اذیت کا باعث ہو اور گھر سے باہر کسی دوسری جگہ مارکیٹ وغیرہ میں لیجانا بھی ممکن نہ ہو، تو زہریلی دوا وغیرہ کے ذریعہ اسے مارنے کی گنجائش ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الھندیۃ:الھرۃ إذا کانت مؤذیۃ لاتضرب ولا تعرک أذنھا بل تذبح بسکین حاد۔اھـ (۵/۳۶۱) واللہ اعلم باالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
مفتی محمد دین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35452کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات