گناہ و ناجائز

طالب علم پر مالی جرمانہ لگانا کیساہے؟

فتوی نمبر :
47505
| تاریخ :
2021-09-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

طالب علم پر مالی جرمانہ لگانا کیساہے؟

اگر ایک ادارے کے معلّمین طلباء سے داخلے کے وقت قواعد و ضوابط کے حلف نامے پر دستخط لے لیں، جن میں ایسے شرائط بھی شامل ہوں کہ اگر طلباء غیر حاضری کریں، باجماعت نماز میں شرکت نہ کریں یا کوئی اور غلطی کرلیں تو ان کو جرمانہ کیا جائے گا؟ اور یہ جرمانہ صرف اصلاحی نیت سے ہو؟ تو یہ جرمانہ شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ اور اس کا مصرف کیا ہوسکتا ہے؟ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مدرسے کے قانون و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے یا نماز باجماعت کی پابندی نہ کرنے کی وجہ سے طلباء کرام پر مالی جرمانہ عائد کرنا شرعاً جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، البتہ طلباء کو قوانین و ضوابط اور نماز باجماعت کا پابند بنانے کیلئے اگر ان سے وقتی طور پر کچھ رقم لیکر باقاعدہ محفوظ رکھا جائے اور پھر کچھ عرصہ بعد جب انہیں تنبیہ ہوجائے تو ان کی رقم انعام وغیرہ کے نام سے انہیں واپس کردی جائے تو اس کی گنجائش ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مجمع الأنھر: وفی البحر ولا یکون التعزیر بأخذ المال من الجانی فی المذھب لکن فی الخلاصۃ سمعت عن ثقۃ أن التعزیر بأخذ المال إن رأی القاضی ذلک، أو الوالی جاز۔ اھـ (ج١، ص٦٠٩)
وفی رد المحتار: والحاصل أن المذھب عدم التعزیر بأخذ المال، وسیذکر الشارح فی الکفالۃ عن الطرسوسی أن مصادرۃ السلطان لأرباب الأموال لا تجوز إلا لعمال بیت المال أی إذا کان یردھا لبیت المال الخ۔ اھـ (ج٤، ص٦٢) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد طہ ریاض عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 47505کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات