جاننا چاہتی ہوں کہ سور کی کھال سے بنے ہوئے جوتے پہننا جائز ہے یا نہیں؟ جیسا کہ بہت کم جوتے بنانی والی کمپنیاں اس سچائی کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ چمڑے کے جوتے بنانے میں تمام دنیا میں استعمال ہوتے ہیں مجھے پتہ ہے کہ اس سے بچنا بہتر ہے لیکن ہم عام گاہک ہوتے ہیں اور ہمارے لئے یہ مشکل ہوتا ہے کہ ہم اس طرح کی چیزیں دیکھیں کہ جن میں غیر شرعی چیز نہ ہو، جیسے کہ چمڑے کے بنے ہوئے فرنیچر، جوتے، بستے، بٹوے، موبائل کیسنگ، بیلٹرس، بکس بائینڈنگ، میٹریل، جیکٹس اور کوٹس وغیرہ وغیرہ برائے مہربانی حنفیہ کے نزدیک اس کا حل بتادیں۔
خنزیر نجس العین ہے اس کی کھال یا کسی جزء سے انتفاع جائز نہیں ہے لہٰذا اس کی کھال سے بننے والے جوتے، فرنیچر، بستے، بٹوے، موبائل کیسنگ، بیلٹرس، بکس بائینڈنگ، میٹریل، جیکٹس اور کوٹس کی خرید و فروخت اور استعمال جائز نہیں اس لئے اگر کسی طرح یقینی طور پر معلوم ہوجائے کہ یہ چیز خنزیر کی کھال سے تیار ی گئی ہیں تو اس سے بچنا لازم ہے۔
فی الدر المختار: (وکل اھاب) ومثلہ المثانة والکرش قال القھستانی: فالأولی وما (دبغ) ولو بشمس (وھو یحتملھا طھر) (إلی قولہ) (خلا) جلد (خنزیر) فلا یطھر، وقدم لأن المقام للاھانة.
وفی رد المحتار: تحت (قولہ خلا جلد خنزیر الخ) قیل ان جلد الآدمی کجلد الخنزیر فی عدم الطھارة لعدم القابلیة، لأن لھما جلود مترادفة (إلی قولہ) لکن علة عدم الانتفاع بھما مختلفة، ففی الخنزیر لعدم الطھارة (إلی قولہ فلا یطھر) أی لأنہ نجس العین بمعنی أن ذاتہ بجمیع أجزائہ نجسة حیا و میتا. (ج۱، ص۲۰۴) واللہ اعلم