کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورت بغیر محرم سفر پر جا سکتی ہے "اگر جاسکتی ہے تو کیا اسلام میں اس کے لئے کوئی خاص عمر متعین کی گئی ہے ؟ نیز اس مسئلہ کے بارے میں بھی راہ نمائی فرمادیجیے کہ سعودی حکومت کے مطابق 45 سالہ عورت بغیر محرم کے گروپ کے ساتھ سفر عمرہ پر جاسکتی ہے، قانون کے متن کا ترجمہ درج ذیل ہے :’’اگر خاتون 45 سال یا اس سے زائد ہے تو وہ بغیر عزیز رشتہ دار (محرم)تشکیل دیئے گئے گروپ کے ساتھ عمرہ کے لیے سفر کر سکتی ہے‘‘جس کے سبب 45 سال سے زائد عمر کی ہزاروں خواتین کسی بھی گروپ کے ساتھ عمرہ پر چلی جاتی ہیں، کیا سعودی قانون کے پیش نظر 45 سالہ عورت کا بغیر محرم سفر عمرہ پر جانا درست ہے ؟ اور عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق کون سی خواتین اس زمرے میں آتی ہیں، جو اپنا فرضی محرم بناکر گروپ کی صورت میں عمرہ کے لیے جاسکتی ہیں؟ تفصیل بتا دیجیئے۔
اور بعض علماء کرام کے نزدیک حالات ، قرائن بدلنے سے 50 سالہ عورت بغیر محرم کسی بھی گروپ کے ساتھ عمرہ پر جاسکتی ہے، شرعی لحاظ سے اس کا کیا حکم ہے ؟
امام اعظم ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ، امام احمد بن حنبل ؒاور راجح قول کے مطابق امام شافعیؒ اور جمہور ائمہ رحمہم اللہ کا مذہب یہ ہے کہ عورت عمر رسیدہ ہو یا جو ان ، اس کے لیے 78 کلو میٹر یا اس سے زیادہ مسافت تک جانے کے لیے محرم کا ساتھ ہو ناشر عاًلازم ہے ، خواہ عام سفر ہو یا حج و عمرہ کا سفر ہو، کیونکہ احادیثِ مبارکہ میں خواتین کے لیے تین دن کی مسافت شرعی کی مقدار میں بغیر محرم سفر کرنے کی جو ممانعت وارد ہوئی ہے وہ بالکل مطلق ہے، اس میں عمر کی کسی خاص مقدار یا راستوں کے پر امن ہونے وغیرہ کی کوئی قید نہیں، چنانچہ صحیح مسلم میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
جو عورت اللہ پر اور آخرت پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زیادہ سفر کرے الا یہ کہ اس کے ساتھ اس کا والد یا بیٹا یا اس کا شوہر یا بھائی یا اس کوئی بھی محرم موجود ہو"۔ (صحیح مسلم)۔
نیز اتنی طویل مسافت تک خصوصاً عمرہ کے اسفار میں جہاں راستہ کی مسافت کے علاوہ ایک طویل عرصہ تک عورت بغیر محرم شرعی کی رہتی ہے اس کا قانون بنا لینے میں مستقل فتنہ کا دروازہ کھلنے کاخوف ہے، جبکہ عمرہ کرنا شرعا فرض یا واجب کے درجہ کا عمل بھی نہیں، اس لیے ہماری نظر میں اس مسئلے میں واضح نصوص موجود ہونے کی وجہ سے جمہور ائمہ کی رائے سے ہٹ کر بعض
علماء کی رائے پر عمل کرنا یا اس کے خلاف قانون سازی کرنا درست معلوم نہیں ہوتا، اور کسی بھی عورت کا بغیر محرم کے مسافت شرعی کے بقدر سفر کر ناشر عانا جائز اور گناہ ہے ، جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ عورت کے ذمہ مالدار ہونے کی وجہ سے حج فرض ہو گیا ہو تو یہ مسئلہ ائمہ اربعہ کے یہاں مختلف فیہ ہے ، اور بعض ائمہ جیسے امام محمد بن ادریس الشافعی اور امام مالک کے نزدیک اگر سفر مامون ہو تو معتمد عورتوں کے ساتھ سفر کی گنجائش ہے۔
كما في صحيح مسلم: عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، أن تسافر سفرا يكون ثلاثة أيام فصاعدا، إلا ومعها أبوها، أو ابنها، أو زوجها، أو أخوها، أو ذو محرم منها» (2/ 977)۔
و في صحيح البخاري: عن أبي هريرة رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة يوم وليلة ليس معها حرمة» اھ (2/ 43)۔
و في صحيح مسلم: عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة يوم إلا مع ذي محرم» اھ (2/ 977)۔
و في صحيح البخاري: عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «لا تسافر المرأة إلا مع ذي محرم، ولا يدخل عليها رجل إلا ومعها محرم»، فقال رجل: يا رسول الله إني أريد أن أخرج في جيش كذا وكذا، وامرأتي تريد الحج، فقال: «اخرج معها» اھ (3/ 19)۔
و في الدر المختار للعلامة الحصكفى الله : (و) مع (زوج أو محرم) ولو عبدا أو ذميا أو برضاع (بالغ) قيد لهما كما في النهر بحثا (عاقل والمراهق كبالغ) جوهرة (غير مجوسي ولا فاسق) لعدم حفظهما (مع) وجوب النفقة لمحرمها (عليها) لأنه محبوس (عليها) لامرأة حرة ولو عجوزا في سفر اھ (2/ 464)۔
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله في سفر) هو ثلاثة أيام ولياليها فيباح لها الخروج إلى ما دونه لحاجة بغير محرم بحر، وروي عن أبي حنيفة وأبي يوسف كراهة خروجها وحدها مسيرة يوم واحد، وينبغي أن يكون الفتوى عليه لفساد الزمان شرح اللباب ويؤيده حديث الصحيحين «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تسافر مسيرة يوم وليلة إلا مع ذي محرم عليها» و في لفظ لمسلم «مسيرة ليلة» و في لفظ «يوم» " لكن قال في الفتح: ثم إذا كان المذهب الأول فليس للزوج منعها إذا كان بينها وبين مكة أقل من ثلاثة أيام اھ (2/ 465)۔
و في المجموع لمحي الدين النووي: قال الماوردي ومن أصحابنا من جوز خروجها مع نساء ثقات كسفرها للحج الواجب قال وهذا خلاف نص الشافعي وكذا قال الشيخ أبو حامد في تعليقه لا يجوز لها الخروج في حج التطوع الا مع محرم نص اھ (8/ 341)۔
و في المغني لابن قدامة: مسألة: قال (وحكم المرأة إذا كان لها محرم كحكم الرجل) ظاهر هذا أن الحج لا يجب على المرأة التي لا محرم لها؛ لأنه جعلها بالمحرم كالرجل في وجوب الحج، فمن لا محرم لها لا تكون كالرجل، فلا يجب عليها الحج. وقد نص عليه أحمد، فقال أبو داود: قلت: لأحمد: امرأة موسرة، لم يكن لها محرم، هل يجب عليها الحج؟ قال: لا.
وقال أيضا: المحرم من السبيل. وهذا قول الحسن، والنخعي، وإسحاق، وابن المنذر، وأصحاب الرأي (الى قوله) ولنا، ما روى أبو هريرة، قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر، تسافر مسيرة يوم، إلا ومعها ذو محرم» . وعن ابن عباس، قال: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول: «لا يخلون رجل بامرأة، إلا ومعها ذو محرم، ولا تسافر امرأة إلا ومعها ذو محرم. فقام رجل فقال: يا رسول الله، إني كنت في غزوة كذا، وانطلقت امرأتي حاجة. فقال النبي - صلى الله عليه وسلم -: انطلق فاحجج مع امرأتك» . متفق عليهما. وروى ابن عمر، وأبو سعيد، نحوا من حديث أبي هريرة. قال أبو عبد الله: أما أبو هريرة: فيقول: (يوما وليلة) . ويروى عن أبي هريرة: (لا تسافر سفرا) أيضا. وأما حديث أبي سعيد يقول: (ثلاثة أيام) . قلت: ما تقول أنت؟ قال: لا تسافر سفرا قليلا ولا كثيرا، إلا مع ذي محرم. وروى الدارقطني بإسناده عن ابن عباس، أن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال: «لا تحجن امرأة إلا ومعها ذو محرم» . وهذا صريح في الحكم. ولأنها أنشأت سفرا في دار الإسلام؛ فلم يجز بغير محرم، كحج التطوع. (3/ 228، 229)۔
وفى الخلاصة الفقهية على مذهب السادة المالكية ـ للقروى: س _ هل تحج المرأة بغير زوج أو محرم ج _ لا تتحقق الإستطاعة في المرأة زيادة على ما ذكر إلا بشرطين 1 ) أن يرافقها زوج أو محرم بنسب أو رضاع أو رفقة أمنت 2 ) وأن يكون الحج عليها فرضا اھ (ص: 208) والله اعلم بالصواب