کیا فرماتےہین مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے سرکاری ملازمت خریدی 12 لاکھ روپے میں اور اب زید کو پتہ نہیں تھا کہ یہ ان کا حق ہے یا نہیں، کیونکہ ملک میں حق دار اور غیر حق دار معلوم نہیں ،اب یہ نوکری حرام ہے یا جائز ؟اگر چہ اس ملازمت کو خریدا تھا اور بعد میں اپنی ڈیوٹی صحیح اداکرتاہے، شریعت کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ پیسے دیکر نوکری حاصل کر نار شوت کے زمرے میں آتا ہے ، جبکہ رشوت دینا اور لینا دونوں حرام ہیں ، اس کے متعلق احادیث مبارکہ میں سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، حتی کہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ ” رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنم میں ہوں گے “ اس لئے رشوت کے ذریعے نوکری حاصل کرنے سے احتراز لازم ہے ، اس کے باوجود سائل نے رشوت دیکر ملازمت حاصل کرلی ہو ،اگر چہ وہ اس کی وجہ سے گناہ گار ہواہےجس پر اسے توبہ واستغفار کا اہتمام کرنا لازم ہے ،تاہم اگر سائل میں اس ملازمت کی اہلیت ہو اوروہ اپنی ملازمت سے متعلقہ امور دیانت داری کے ساتھ انجام دے رہاہو تواس صورت میں اس کو ملنے والی تنخواہ بہر حال حلال ہوگی۔
آفیسر کے ذمہ کاموں کے کرنے پر اس کی جانب سے دی گئی رشوت سے حاصل کردہ رقم لینا جائز ہے؟
یونیکوڈ رشوت 0