ہم گزشتہ 44 سال سے کارٹن (Carton Manufacturing) کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔ اپنے کاروباری دورانیے میں ہمیں متعدد مواقع پر آرڈرز حاصل کرنے کے لیے رشوت دینے کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ہم نے ہمیشہ رشوت سے مکمل اجتناب کیا ہے۔
موجودہ حالات میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بعض جگہوں پر آرڈرز حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا گویا لازمی بن چکا ہے۔ چونکہ ہم رشوت نہیں دیتے، اس لیے ہمارے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا ہے، آرڈرز نہ ہونے کے باعث ہمارا کاروبار بہت محدود ہو کر رہ گیا ہے اور ہم مالی مشکلات کا شکار ہیں۔
ہمارے پاس آمدنی کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے اور یہی کاروبار ہمارے اور ہمارے اہلِ خانہ کے لیے واحد ذریعۂ معاش ہے۔ ایسی مجبوری اور اضطراری کیفیت میں، جبکہ ہمیں بظاہر کوئی اور راستہ نظر نہیں آتا، کیا آرڈرز حاصل کرنے کے لیے رشوت دینا شرعاً جائز ہوگا، خصوصاً جب رشوت دیے بغیر کاروبار کا چلنا ممکن نہ ہو؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ رشوت لینا اور دینا دونوں شرعا ناجائز اور حرام ہے اور احادیث مبارکہ میں رشوت دینے اور لینے والوں پر لعنت وارد ہوئی ہے، لہذا سائل کا کاروبار بڑھانے یا ایک جگہ برقرار رکھنے کےلئے رشوت دیناتو جائز نہیں اس لئے اس سے اجتناب لازم ہے، تاہم اگر کسی بروکر وغیرہ کو کچھ دیئے بغیر لین دین ممکن نہ ہو تواسے رشوت دینے کے بجائے اسے بروکری (اس کی قابل اجرت محنت پر اجرت) دیکر بھی اپنا کاروباری نظام بہتر کیا جاسکتاہے،بشرطیکہ اس بروکر کےلئے برو کری لینا جائز ہو اور متعاقدین کے درمیان پہلے سے باقاعدہ مخصوص رقم یافیصدی اعتبار سے حصہ طے کیا گیاہو۔
کما قال اللہ تعالی: وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ (البقرة: 188)
وفی سنن الترمذي: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: لَعَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّاشِيَ وَالمُرْتَشِيَ فِي اھ(الحُكْمِ.3/ 15)
وفی المبسوط: وقال صلى الله عليه وسلم: الراشي والمرتشي والرايش في النار ، ولعن الله من أعان الظلمة ، أو كتب لهم (16/ 279)
وفی ردالمحتار: وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال:أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام. اھ(باب الاجارة الفاسدة ج:6، ص:63، ط:سعید)