جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ گورنمنٹ ملازمت جو بھی آتی ہیں وہ سیٹیں بک چکی ہوتی ہیں، جو بھی ملازمت ہو کہا جاتا ہے کہ اتنے لاکھ دو تو ملازمت مل جائے گی، تو برائے مہربانی بتائیں کہ اس ملازمت کے لئے پیسے دینا جائز ہے؟
اگر کوئی شخص کسی ادارے میں ملازمت کے لیے درکار انٹرویو دیدے، اور اس میں کامیاب ہونے کے ساتھ تعلیمی قابلیت اور تجربہ بھی رکھتا ہو ، رشوت دیئے بغیر اس کا تقرر ناممکن ہو اور رشوت دینے سے کسی دوسرے کا حق بھی ضائع نہ ہو تا ہو ، تو ایسی مجبوری کی صورت میں اگر چہ دینے والے کے لیے اپنے حق کے حصولیابی کی خاطر دینے کی گنجائش ہے، مگر لینے والے کے لیے بہر صورت ناجائز اور حرام ہے، اس لیے رشوت لینے سے احتراز لازم ہے۔
لما في إعلاء السنن: الرشوة ما يعطى لابطال حق أو لاحقاق باطل أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق أو ليدفع به عن نفسه ظلما فلا بأس به اھ (۱۵/ ۶۰)
وفى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): كما لو اضطر إلى دفع مرشوة لإحياء حقه جاز له الدفع وحرم على القابض اھ (5/ 72، ایچ ایم سعید کمپنی)
و في الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار)
الثالث: أخذ المال ليسوي أمره عند السلطان دفعا للضرر أو جلبا للنفع وهو حرام على الآخذ فقط اھ (5/ 362، سعيد)
و في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: بعد ما ظهر الفساد وتغيرت أحوال القضاء والعمال حتى لا يقيموا الحق إلا بالرشوة فيكون على هذا التقدير مصره أسهل لإثبات حقوقه. اهـ. (6/ 229، دار الكتاب الإسلامي) والله اعلم بالصواب