میں ایک گورنمنٹ ادارہ میں بطور کمپیوٹر آپر یٹر کام کرتا ہوں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہاں ٹھیکیدار کام لینے آتے ہیں اور ان کو کام دیے جاتے ہیں اور وہ کام کے لینے کے بعد کچھ پر سنٹ (فیصد) ہیڈ کلرک کے حوالے کرتے ہیں، یہ معلوم نہیں کہ کلرک اُن کو بولتا ہے یا وہ خود دیتے ہیں ، لیکن کلرک ان پیسوں کو لینے کے بعد تھوڑا تھوڑا کر کے سب کو دیتا ہے، اور مجھے کبھی کبھی پانچ سو کبھی ایک ہزار روپے دیتا ہے، جبکہ میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ مجھے پیسے دیدو۔ وہ خود اپنی مرضی سے دیتا ہے۔ آپ بتائیں یہ پیسے میں لے سکتا ہوں یا نہیں ؟ یہ میرے اوپر حلال ہیں یا حرام ؟
عموماً ایسا ہوتا ہے کہ ٹھیکدار جب تک اس طرح مجاز افسران کو کچھ نہ دے تو اس کو آئندہ ٹھیکہ نہیں ملتا ہے ، اس لیے وہ ان لوگوں کو راضی رکھنے کے لیے کچھ دیتے ہیں جس کے رشوت ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اس لیے اس کے لینے سے احتراز ہی چاہیئے ۔
ففي سنن الترمذي: عن أبي هريرة قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي في الحكم» اھ (3/ 614)