السَّلامُ علیکم
یونیورسٹی کا ایک استاد اپنے ایسے شاگردوں سے تحفے تحائف و دیگر چھوٹی چھوٹی مراعات، ساتھ ساتھ روز روز مہنگا کھانا کھاتا ہے جس کے پیسے بھی شاگرد دیتے۔ ایسے میں یہ بات بھی واضح طور پر محسوس کی گئی ہے کہ اس خاص مضمون میں ان طالب علموں کا پاس ہونا بھی لگ بھگ طے ہوتا ہے جو مضمون وہ استاد پڑھا رہا ۔ جس سے ہی بات نہ صرف واضح ہوتی بلکہ اس امر کی تصدیق بھی ہوتی ہے کہ یہ لین دین اس طالب علم کے امتحانی نتائج پرپرُ زور اثر رکھتا ہے۔
جواب میں استاد عذر پیش کرتا ہے کہ یہ سب طالب علم بغیر کہے اس کے احترام میں کرتے جب کہ حیران کن بات یہ کہ اُسی شعبہ میں اور بھی پرانے اور قابل استاد موجود ہیں جن کے لئے اِن طالب علم کی محبت اور احترام کبھی نہیں جاگتا۔ نیز اس ادارے نے کبھی اس چلن کو فروغ نہیں دیا۔اس صورت حال میں اس استاد کا طلاب علموں سے تحفے تہائف لینا اور روز روز کے مہنگے کھانے کھانا کہاں تک حلال و درست ہے؟؟ نیز لگ بھگ ۷۰۰۰۰ مہانہ آ مدنی والے اس استاد کا مہنگا رہن سہن، ہر مہینے کے مہنگے لباس اور پر تئیش طعام، شاگردوں سے لینے والے تحائف کی پول کھولتا ہے۔کیا یہ درست و حلال ہے؟؟
واضح ہو کہ کسی استاد کا طلباءکوامتحان میں کامیاب کرانے کی شرط پر ان سے کھانے کی دعوت کرانا یا گفٹ وغیرہ وصول کرنا خالصتا رشوت اور گناہ کبیرہ ہے، جو کسی بھی صورت بھی جائز نہیں، اور اگرکسی استاد سے متعلق یہ بات باقاعدہ ثابت ہوجائے، تو اس کے خلاف ضابطہ کے مطابق کاروائی بھی کرنی چاہیے تاکہ دیگر طلباء کی حق تلفی نہ ہو۔
لیکن جب تک کسی استاد کے بارے میں باقاعدہ شواہد اورثبوت کے ساتھ یہ بات ثابت نہ ہوجائے، تو محض قرائن اور استاد کے رہن سہن ، مہنگے لباس اور پرتعیش زندگی کو دیکھ ان پر یہ الزام لگانا، کہ یہ طلباء سے امتحان میں کامیاب کرانے پر رشوت وصول کرتاہےخالصتا بہتان اور گناہ کبیرہ ہے۔ اس لیے محض اندازے سے کسی بھی فرد سے متعلق دوسرے لوگوں میں اس طرح منفی بات پھیلانا یا بدگمانی پیداکرنا شرعاجائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
قال اللہ سبحانہ وتعالی:
ان الذین یرمون المحصنات الغافلات المومنات لعنوا في الدنیا والآخرة ولہم عذاب عظیم۔(النور، رقم الآیۃ:23)
ترجمۃ:”جولوگ تہمت لگاتے ہیں ،پاکدامن،بے خبر رہنے والی ،مومنہ عورتوں پر ان کو پھٹکار ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے“۔
فی سنن ابی داؤد:(3/ 300)
’’عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»‘‘.