السلام علیکم !
سلام کے بعد گزارش یہ ہے کہ میں ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہوں، اگر میں سرکار کے کام سےکسی دوسرے شہر سفر کرتا ہوں تو سرکار مجھے اس کام/سفر کا ٹی اے ڈی اے( TA DA ) دیتی ہے جو کہ ایک بل کی صورت میں پاس ہوتا ہے ،جب وہ بل اکاؤنٹ والوں کے پاس جاتا ہے جو کہ رقم ایشو issue کرتے ہیں اس بل کی، وہ اس کے پیمنٹ جاری کرنے کے لیے پیسوں کا بولتے ہوں، مثلاً وہ کہتے ہیں کہ اس بل کا دس فیصد ہمیں دو ، اگر ان کو وہ پیسے نہ دیں تو وہ کوئی نہ کوئی جائز یا ناجائز مسئلہ بنا کر بل واپس کردیتے ہیں اور جب تک ان کو پیسے نہ دو، وہ ایسے ہی کرتے ہیں اور ہم اور ہمارا ادارہ ان کا کچھ نہیں کر سکتا، سب ان کے سامنے مجبور ہیں، ایسی صورت میں اپنے جائز پیسے لینے کے لئے جو پیسے اُن کو دیے جاتے ہیں تو اُن پیسوں پر رشوت کا حکم لاگو ہوتا ہے کیا؟ اور اگر ہوتا ہے تو اس میں شریکِ گناہ کون کون ہے؟ کیا لینے اور دینے والا دونوں شریکِ گناہ ہیں؟ میں یہ پھر بتا دو ں کہ اگر ہم اُن کو اُن کے طلب کردہ پیسے نہ دیں تو وہ ہمارا بل پاس نہیں کرتے اِس کی وجہ سے ہمارے جائز پیسے بھی ہمیں نہیں ملتے ۔
سوال میں ذکرکردہ وضاحت کے مطابق اگر سرکاری کام کی وجہ سے سفر کے واقعی اخراجات وصول کرنے کے لئے سائل کو اکاؤنٹ والوں کو رقم دینی پڑتی ہو، اس کے بغیر اصل رقم بھی نہ ملتی ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل کے لئے ان کو رقم دینے کی گنجائش ہے، البتہ لینے والے بہرصورت گناہگار ہوں گے، جس سے انہیں احتراز لازم ہے۔
کما فی إعلاء السنن: الرشوۃ ما یعطی لإبطال حق أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطی لیتوصل بہ الی حق اولیدفع بہ عن نفسہ ظلمًا فلا بأس بہ الخ (ج15، ص60، ط۔ادارۃ القرآن)۔
وفی البحر: و ھما قالا ذلک بعد ما ظہر الفساد وتغیرت أحوال القضاء والعمال حتی لا یقیموا الحق الا بالرشوۃ فیکون علی ہذا التقدیر مصرہ اسہل لا ثبات حقوقہ۔ اھـ (ج6، ص229،ط۔دارالکتاب الاسلامی)۔
کما فی ردالمحتار: (قوله: دفع النائبة والظلم عن نفسه أولى إلخ)(الی قوله) فإن أكثر النوائب في زماننا بطريق الظلم فمن تمكن من دفع الظلم عن نفسه فذلك خير له اهـ (2/336)-