السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ !
کچھ وقت پہلے محکمہ ایجوکیشن نےٹیچنگ جابز کا اشتہار جاری کیا , بندہ نے بھی معلم القرآن کیلئے اپلائی کیا , پھر ٹیسٹ لیے گئے اور اب نتیجہ آیا ہے،دھڑادھڑ پیسہ چل رہا ہے جو لوگ پیسے دے چکے تھے دس پندرہ لاکھ روپے , انکا ٹیسٹ کامیاب ہوا ہے , اور انکی نوکری پکی ہے، یقینا ان کو ملے گی ,،مجھ سے بھی وہاں کے ایک بندے نے کہا کہ آپ پانچ لاکھ روپے دے دو تو آپ کا کام پکا ہے , میں نے کہا ٹھیک ہے , اس نے مجھے بتایا کہ زیادہ تر جتنے بندے پاس ہوئے ہیں سب نے دس دس لاکھ , پندرہ پندرہ لاکھ روپے جمع کیا ہوا ہے ، میرٹ میرٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے ،ایسے ایسے بندوں کو بھرتی کیا جارہا ہے جن کو کچھ بھی نہیں آتا , انتہائی غبی قسم کے لوگ نقل پاس ڈگری والے ان پوسٹوں پر قبضہ کررہے ہیں , یہ کہنا ہے اس بندے کا،خیر میں نے اس کو ہاں کردیا اور اس نے کہا جب پیپر ہو جائے تو آپ نے پیپر خالی جمع کروانا ہے الا یہ کہ آپ کو جو سوال سو فیصد یاد ہو
, کہ اس کا جواب یہ ہے تواس پر ٹک کا نشان لگا دینا ہے ،میں نے پیپر اس کے کہنے کے مطابق حل کیا میں نے تقریباً 25 سوال حل کیے 50 میں سے , اور25 کو خالی چھوڑ دیا تھاامید یہی تھی کہ اگر سارے سوال حل کرتا تو پاس ہو سکتا تھا،اب کچھ دن پہلے نتیجہ آیا تو دیکھا میرا نتیجہ بہت ہی شاندار آیا ہے اب میرٹ لسٹ لگنے والی ہے وہ بندہ مجھ سے پیسے مانگے گا جب میرا نام میرٹ لسٹ میں آجائے توکیا میرا اس کو نوکری کیلئے پیسہ دینا مذکور صورتِ حال میں درست ہے؟
واضح ہو کہ میرٹ بالکل نہیں ہےاور یہ حقیقت ہے جو پیسہ دے رہے ہیں بس انکا کام ہورہا ہے ٹیسٹ محض ایک دکھاوا تھا اب بھی جو پاس ہیں اگر وہ پیسے دینے سے انکار کریں تو ان کو اب بھی فیل کیا جائے گا اور مجھے بھی کہا گیا ہے کہ اگر آپ کے پاس پیسے نہیں ہیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہم دوسرا بندہ ڈھونڈ لیں گے آپ کو فیل کرنا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے ،ایسے ایسے بندوں کو بھرتی کیا جارہا ہے جو یہ کہتے پھر رہے ہیں کہ اگر نوکری مل جائے توبس گھر بیٹھ جاؤ اور بس تنخواہ کھاتے جاؤ،ڈیوٹی کا کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہوگا اور ایسے بندے جو نا لائق ترین ہیں ان کو پوسٹیں دی جارہی ہیں۔امید ہے کہ جلد از جلد جواب ارسال فرمائیں گے۔جزاکم اللہ خیراً
واضح ہوکہ پیسے دیکر نوکری حاصل کرنا رشوت کے زمرے میں آتا ہے،جبکہ رشوت دینا اورلینا دونوں حرام ہے،اس کے متعلق احادیثِ مبارکہ میں سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں،حتی کہ ایک حدیث میں ہے کہ ”رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنم میں ہونگے“لہذا صورتِ مسئولہ میں جب یہ بات یقینی ہے کہ مذکور ملازمت رشوت دیکر ہی حاصل کی جاسکتی ہے اور رشوت کے بغیر ملازمت کا حصول ممکن نہیں تو سائل کے لیےرشوت دیکر یہ ملازمت حاصل کرنا جائز نہیں بلکہ سائل کو چاہیے کہ رشوت کے ذریعے نوکری حاصل کرنے کے بجائے رزقِ حلال کے حصول کے لیے جائز ذرائع آمدن تلاش کرے اوراسی میں برکت ہوگی ان شاء اللہ۔
کمافی سنن أبي داود: عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»اھ(ج3 ص300 باب فی کراھیۃ الرشوۃ ط: بیروت)۔
وفی سنن الترمذي ت بشار: عن عبد الله بن عمرو قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي.
هذا حديث حسن صحيح.(ج3 ص16 باب ماجاء فی الراشی والمرتشی فی الحکم ط: دارالغرب الاسلامی،بیروت)۔
وفی سنن ابن ماجۃ: عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لعنة الله على الراشي والمرتشي» (ج2 ص775 کتاب الاحکام ط: دار أحیاء الکتب العربیۃ)۔