میں ایک کاروباری آدمی ہوں ، مجھے یہ معلومات حاصل کرنی ہے کہ کاروبار کرنے کے لئے کمیشن دینا جائز ہے ؟جیسے مجھے ایک فیکٹری کے ساتھ کام کرنا ہے تو اس فیکٹری کے بندے کو میں کمیشن دے سکتا ہوں تاکہ وہ مجھ سے ہی مال بنوائے یا خریدے۔
کسی کاروباری آدمی کا فیکٹری کے لئے مال مہیا کرنے والے ملازم کو اس شرط پر رقم اور کمیشن دینا کہ وہ کمپنی کے لئے کسی اور جگہ سے مال خریدنے کے بجائے اسی کاروباری آدمی سے خریدنے کا پابند ہوگا ،شرعاً رشوت کے زمرے میں آتا ہے ، جوکہ ناجائز وحرام ہے ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ۔
کما فی جامع الترمذی : عن ابی ھریرۃ قال : لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم الراشی و المرتشی فی الحکم (حدیث 1385 ص 597 ، باب ما جاء فی الراشی والمرتشی فی الحکم ، مؤسسۃ الرسالۃ ) ۔
و فی ردالمحتار تحت :(قولہ اخذ القضاء برشوۃ)(الی قولہ ) ما یعطیہ الشخص الحاکم و غیرہ لیحکم لہ او یحملہ علی ما یرید ( الی قولہ ) منھا ما ھو حرام علی الآخذ و المعطی و ھو الرشوۃ علی تقلید القضاء والامارۃ ، والثانی : ارتشاء القاضی لیحکم و ھو کذلک و لو القضاء بحق لانہ واجب علیہ الخ ( ج 5 ص 362 ، مطلب فی الکلام علی الرشوۃ و الھدیۃ ، ط سعید ) ۔