السلام علیکم
میں نے کچھ دن پہلے ایک ای میل بھیجا، لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔ میں آپ سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں:
مسئلہ:
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کے کرپٹ نظام میں سرکاری نوکریاں میرٹ پر نہیں دی جاتیں۔ میں ایک طالب علم ہوں اور میں سرکاری عہدہ حاصل کرنا چاہتا ہوں - تعلیم کے لحاظ سے، میں پوری طرح اہل ہوں۔ میرا کزن ایک سرکاری ادارے میں کام کرتا ہے اور میں وہاں شامل ہونا چاہتا ہوں، لیکن ملازمت کو محفوظ بنانے کے لیے، مجھ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اسے ایک خاص رقم ادا کروں۔
میرے سوالات ہیں:
کیا میں اسے جو رقم دیتا ہوں وہ رشوت شمار ہو گا؟
کیا اس کام کو لینا میرے لیے حرام ہے اور کیا پھر تنخواہ میرے گھر والوں کے استعمال کے لیے حرام ہوگی؟
شکریہ
واضح ہو کہ سرکاری ملازمت کے حصول کےلئےپیسوں کا لین دین رشوت ہے،اور رشوت لینا اور دینا احادیث مبارکہ کی رو سےدونوں حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، احادیث مبارکہ میں اس پر سخت وعیدیں وارد ہیں،لہٰذا سرکاری ملازمت کا حصول اگر رشوت دیئے بغیر کسی جائز اور قانونی طریقے سے ہوسکتا ہو تو اسی طریقہ کو اختیار کرنا چاہئے،تاہم اگر ایسا کرنا واقعۃً ممکن نہ ہو اور سائل میں مذکورہ ملازمت کےلئے درکار اہلیت موجودہونے کے باوجود رشوت دیئے بغیر مطلوبہ ملازمت کا حصول ممکن نہ ہو اور سائل کا کوئی متبادل ذریعہ آمدن بھی نہ ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں رشوت دے کر ملازمت حاصل کرنے کی گنجائش ہوگی اوراس کی تنخواہ بھی حرام نہیں ہوگی(بشرطیکہ حرام ہونے کی کوئی دوسری وجہ نہ ہو) ،تاہم رشوت لینے والا بہر حال گناہ گار ہوگا۔
«سنن أبي داود» :
عن أبي سلمة ، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»(ج:3،ص:300)
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي»:
لا بأس بالرشوة إذا خاف على دينه والنبي عليه الصلاة والسلام.
(قوله إذا خاف على دينه) وفيه أيضا دفع المال للسلطان الجائر لدفع الظلم عن نفسه وماله ولاستخراج حق له ليس برشوة يعني في حق الدافع اهـ.»(ج:6،ص:424)
«البحر الرائق شرح كنز الدقائق » :
«وما علل به في الفتاوى الظهيرية بأن الحاج لا يتوصل إلى الحج إلا بالرشوة للقرامطة وغيرهم فتكون الطاعة سببا للمعصية مردود بأن هذا لم يكن من شأنهم؛ لأنهم طائفة من الخوارج كانوا يستحلون قتل المسلمين وأخذ أموالهم وكانوا يغلبون على أماكن ويترصدون للحاج وعلى تقدير أخذهم الرشوة فالإثم في مثله على الآخذ لا المعطي» (واجبات الحج،ج:2،ص:328)