السلام علیکم
میرا سوال یہ ہے کہ ہماری ٹیکسٹائل ڈائنگ اور پرنٹنگ فیکٹری ہے، ہماری فیلڈ میں برانڈز کا کام ہوتا ہے۔ پر برانڈز یا انکے ایمپلائز بغیر رشوت کے پرچیز آرڈر ریلیز نہیں کرتے ۔ ہمارا کام کافی معیاری بھی ہے اور ہم کچھ ناجائز تقاضہ نہیں کرتے، لیکن پھر بھی برانڈ انکو زیادہ ترجیح دیتے ہیں جو انکو رشوت دیتے ہیں۔ اس صورت میں کیا ہمارے لئے کچھ گنجائش ہے؟
واضح ہو کہ رشوت لینا اور دینا شرعا ناجائز اور حرام ہے اور احادیث مبارکہ میں رشوت لینے اور دینے والے پر لعنت وارد ہوئی ہے، اس لئے سائل کا اپنے کاروبار بڑھانے کی غرض رشوت دینا تو جائز نہیں، بلکہ اپنے تعلقات اور مارکیٹنگ کے جائز تدابیر اختیار کرتے ہوئے کام کے معیار کو مزید بہتر بنانے کا اہتمام چاہئیے، اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ رب العزت سے بہتری کی دعا بھی کرتے رہاکریں، امید ہے کہ وقت کے ساتھ سب بہتر ہوجائیگا۔
کما فی سنن أبي داؤد: عن عبد الله بن عمرو قال لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشى والمرتشى. (باب كراهية الرشوة، ج:2،ص:148)
وفی البحرالرائق: وفي المصباح الرشوة بكسر الراء ما يعطيه الشخص للحاكم وغيره ليحكم له أو يحمله على مايريد.(کتاب القضاء، ج6،ص:440)
آفیسر کے ذمہ کاموں کے کرنے پر اس کی جانب سے دی گئی رشوت سے حاصل کردہ رقم لینا جائز ہے؟
یونیکوڈ رشوت 0