السلام علیکم!
اگر ابلیس (شیطان) ایک فرشتہ تھا اور جیسا کہ ہم سنا ہے کہ یہ آگ سے بنے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ ذہن جو ہمارے نزدیک دماغ ہے، ان کے نہیں ہوتا، اس طرح سوچ نہیں تو پھر اس نے اللہ کے احکام کو کیوں رد کیا ؟اور حضرت آدمؑ کو سجدہ نہیں کیا، اگر فرشتہ کوئی سوچ نہیں رکھتے تو پھر اس نے کیسےسوچ لیا؟
فرشتوں کی تخلیق آگ سے نہیں، بلکہ نور سے ہے۔ اور اُن کی خلقت میں حکم عدولی اور نا فرمانی نہیں، بلکہ جسے جس مقصد کیلئے پیدا کیا گیا ہے وہ اُسی میں لگا ہوا ہے ۔
جبکہ جنات کی تخلیق آگ سے ہے اور وہ شعور بھی رکھتے ہیں اور اسی بناء پریہ احکامِ خداوندی کے مکلّف ہیں اور شیطان بھی جنات کی ہی قسم سے ہے جسے ایک متعین عرصہ تک ملائکہ کے ساتھ رکھنے میں حکمتِ خداوندی تھی اور اس مدّت کے بعد اسے نکال دیا گیا ، جس کا سبب اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی اور سجدہ سے انکار بنا۔
قال اللہ تعالى: لا يعصون الله ما امرهم ويفعلون ما يؤمرون. الآية (التحريم:(۶ الآیۃ)۔
کمافی القرآن الکریم: وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات: 56 الآیۃ)۔
وقولہ تعالیٰ: قال مامنعک الا تسجد اذ امرتک قال انا خیر منہ، خلقتنی من نار وخلقتہ من طین (الاعراف: 12 الآیۃ)۔
وقولہ تعالیٰ:کان من الجن ففسق عن امر ربہ (کھف:50 الآیۃ)۔