کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک دینی ادارے والوں نے چندہ کی رقم سے ایک زمین خریدی، جس کے بعض حصہ پر ادارے کے مفاد کی خاطر کچھ دکانیں بنائی گئیں، کچھ حصہ ویسے کرایہ پر دیا گیا اور ایک حصہ کو قبرستان کیلئے مختص کیا گیا،اب انتظامیہ نے یہ فیصلہ کا ہے کہ قبرستان کی حدود کے باہر متصلاً کناروں میں مدرسہ ہی کی زمین پر پلر لگا کر اوپر چھت کی صورت میں ایک بلڈنگ بنالی جائے، جس میں دار القرآن اس غرض سے بنایا جائے گا،تاکہ اس میں بچے قرآن پڑھیں، جس کا ثواب قبرستان میں مدفون حضرات کو بخشا جائے اور ادارہ کی زمین کا یہ حصہ بھی کار آمد رہے - لہذا معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا قبرستان کی اس جگہ بلڈنگ تعمیر کرنا جائز ہے؟ جبکہ نیچے قبریں موجود ہوں اور بعد میں مزید قبریں بنیں گی۔
سوال پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکور اضافی خریدی ہوئی جگہ اصلاً وقف نہیں،بلکہ مدرسہ کے مفاد کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کے فنڈ سے خریدی گئی ہے،جو وقف کی مملوک ہے اور پھر اس قطعۂ اراضی میں سے یہ جگہ قبرستان کے لئے مخصوص کی گئی ہے،جو شرعاً وقف قبرستان کے حکم میں نہیں، اس لئے اس کی فضا کو کارآمد بنانے کی غرض سے اگر اس کے اردگرد قدِ آدم ستون کھڑے کرکے اس پر قرآنی تعلیمات کے لئے"دارالقرآن" کے نام سے کوئی عمارت بنائی جائے تو اس میں وقف کا مفاد ہے اور اس کا بنانا بلاشبہ جائز ہے، جبکہ اہلِ قبور کو ثواب ہونا امرِ اضافی ہے۔
کما فی الشامیة: (تحت قوله یکرہ المشی) قلت:لکن قد علمت أن الواقع فی کلامھم التعبیر بالکراھة لابلفظ الحرمة وحینئذ فقد یوفق بأن ماعزاہ الامام الطحاوی إلیٰ ائمتنا الثلاثة من حمل النھی علیٰ الجلوس لقضاء الحاجة یراد به نھی التحریم وماذکرہ غیرہ من کراھة الوطء والقعود الخ یراد به کراھة التنزیه فی غیر قضاء الحاجة اھ(3/184)۔
وفی الفتاوی الھندیة: رجل أعطى درهما في عمارة المسجد أو نفقة المسجد أو مصالح المسجد صح؛ لأنه وإن كان لا يمكن تصحيحه تمليكا بالهبة للمسجد فإثبات الملك للمسجد على هذا الوجه صحيح فيتم بالقبض، كذا في الواقعات الحسامية(الیٰ قوله)ولو قال: وهبت داري للمسجد أو أعطيتها له، صح ويكون تمليكا فيشترط التسليم، كما لو قال: وقفت هذه المائة للمسجد يصح بطريق التمليك إذا سلمه للقيم كذا في الفتاوى العتابية اھ(2/460)۔
وفی الخانیة: المتولی اذا اشتری من غلة المسجد حانوتاً او داراً او مستغلاً آخر جاز،لأن ھذا من مصالح المسجد،فإذا اراد المتولی أن یبیع مااشتری وباع اختلفوا فیه قال بعضھم لایجوز ھذا البیع، لأن ھذا صار من اوقاف المسجد وقال بعضھم یجوز ھذا البیع وھو الصحیح،لأن المشتری لم یذکر شیئاً من شرائط الوقف فلایکون مااشتری من جملة اوقاف المسجد اھ(3/297)۔