میں سرکاری ملازم ہوں، آرڈرز بنانا آفیسر کا کام ہے، لیکن وہ مجھ سے آرڈرز بنواتا ہےاور اپنی پوسٹ کے دوسرے کام مجھ سے کرواتا ہے جو کہ میرا کام نہیں ہے، لیکن میں کرنے پر مجبور ہوں، نہ کروں گا تو وہ تنگ کرے گا، میری اے سی آر خراب کر دے گا،اس طرح میری ترقی میں مسئلہ بنے گا، نوکری بھی جا سکتی ہے، میں اپنا کام بھی کرتا ہوں اور آفیسر کا بھی، اب آفیسر رشوت لیتا ہے اور کچھ رقم یونٹ کے ملازمین میں بانٹتا ہے، وہ رقم لینا کیسا ہے، جو کام میں اپنی پوسٹ سے بڑھ کر کر رہا ہوں(آفیسر کا کام) اس کی مد میں یہ رشوت کا ملنے والا حصہ رکھ سکتا ہوں یا نہیں؟
واضح ہوکہ رشوت لینا دینا دونوں از روئے شرع ناجائز اور حرام ہے، اس کےمتعلق احادیث مبارکہ میں سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، حتی کہ ایک حدیث شریف میں ہے کہ ” رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنم میں ہونگے “ لہذا صورت مسئولہ میں مذکور آفیسر کےلئے رشوت کا لین دین کرنا اور پھر اسے ملازمین میں تقسیم کرنا ہردو امورسے اجتناب لازم ہے،جبکہ سائل محکمہ کی طرف سے مذکور آفیسر کاکام کرنے کا پابند نہ تو ایسی صورت میں اس آفیسر کا اپنا کام سائل سے کرانا جائز نہیں ،تاہم اگر ملازمت کو نقصان پہنچنے کے اندیشے کی وجہ سے سائل مجبور ا اس کے کام کرتاہوتو زبردستی اس اضافی کام لینے کا وبال اورگناہ اس آفیسر پر ہوگا ، لیکن اس کے باوجود سائل کا رشوت کے حرام مال سے اس کاعوض وصول کرنا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
آفیسر کے ذمہ کاموں کے کرنے پر اس کی جانب سے دی گئی رشوت سے حاصل کردہ رقم لینا جائز ہے؟
یونیکوڈ رشوت 0