جس نے گھر بنایا ہو اور وہ بھی اُسی گھر میں رہتا ہو،لیکن اُس نے وہ گھر گھر کے کسی اور فرد کے نام کردیا ہو ,تو کیا بیچنے کے وقت اُس کا حصہ نہیں ہوگا؟ کیا مسئلہ ہے شرعی طور پر؟
واضح ہو کہ کوئی چیز فقط کسی کے نام کردینے سے وہ شخص اس چیز کا مالک نہیں بن جاتا جب تک وہ چیز مالکانہ حقوق کے ساتھ اس کے قبضہ میں نہ دے دی جائے ،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگرمذکور شخص نے یہ گھر دوسرے فرد کے فقط نام کیا ہوا، باقاعدہ مالکانہ حقوق کے ساتھ اس کو قبضہ نہ دیا ہو تو وہ اس گھر کا مالک نہیں بنا، بلکہ اب بھی وہ گھر مذکور شخص ہی کی ملکیت شمار ہوگا، وہ اس میں جس طرح چاہے جائز تصرف کرسکتا ہے۔
کما فی التنویر مع الدر: (و تتم) الهبة (بالقبض) الكامل (و لو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) و الأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامھا اھ (ج5،صـــ690،ط:سعید)۔